جہان اسلام میں "جہادی سلفی نظریہ" کی تجدید حیات کے آئیڈیالاجیکی وسائل
تاریخ انتشار : 1/5/2017

 معاصر اسلامی تحریکوں کے نباض و محقق "محمد رضا عاشوری مقدم" نے اس مقالہ میں جو آپ کے زیرمطالعہ ہے، جہان اسلام میں جہادی سلفی گری کی نظریاتی حیات نو کے موضوع کی تحقیق پیش کی ہے اور اس میں ایک مقام پر ذکر کرتے ہیں: اگر ہم اس بات کو قبول کو لیں کہ جہادی سلفی گری جیسا کہ فواد حیسن اپنی کتاب "زرقاوی، القاعدہ کی دوسری نسل" میں تحریر کرتے ہیں کہ مرحلہ ششم کے توسعہ کے پیش نطر جو (خواب ہمہ جانبہ ۲۰۲۰ تک) کے نام سے موسوم ہے، شکست سے دوچار ہو چکا ہے، حقیقت امر یہ ہے کہ یہ مکتب فکر خطے کے وسیع علاقہ میں قابل توجہ کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔ اس مقالہ میں ہرگز خطے میں موجود سلفی جہادی مکتب فکر خاص طور پر داعش و القاعدہ کی تشکیل کے تمام اطراف و جوانب کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا ہے اور کسی بھی صورت میں اس میں خطے اور اس کے  باہر کے خفیہ اداروں کی اقتصادی و سماجی اعتبار سے کی جانے والی کوششوں اور ان کی تاثیر کی نفی نہیں کی گئی ہے۔ ان سب کے باوجود اس تحریر میں کوشش کی گئی ہے کہ یہ خطے میں جہادی سلفی مکاتب فکر کی تشکیل اور ان کے فروغ میں آئیڈیا لاجیکی اسباب و علل کی تاثیر کی نشاندہی کر سکے۔

مغربی ایشیا اور شمالی افریقا میں گزشتہ چند برسوں میں ہم ایسی تنظیموں کے وجود اور انکے فروغ کا مشاہدہ کر رہے ہیں جسے سیاسی اصطلاح میں جہادی سلفی گری کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ القاعدہ و داعش جیسی تنظیمیں ان مکاتب فکر کی نمایندگی کا واضح نمونہ ہیں۔ ان کی تشکیل و پیدائش کے سلسلے میں محققین کے درمیان اختلاف نظر پایا جاتا ہے، اس کے  باوجود ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جہادی سلفی تحریکوں کی تین نسل کی تقسیم بندی کے بارے میں اتفاق نظر موجود ہے:

۱۔ مصری سلفی گروہوں کی نسل اور 1970 میں ان گروہوں سے جدا ہونے والی نسلیں۔

۲۔ بین الاقوامی سلفی جہادی نسل، جو سن ۱۹۹۸ کے دوران افغانستان میں اسامہ بن لادن کی رہبری میں القاعدہ تنظیم کے نام سے تاسیس کی گئی۔

۳۔ القاعدہ سے جدا ہونے والے مقامی گروہ یا اس کے تحت نظر نسل، جن کی سب سے واضح مثال شام میں داعش و جبہۃ النصرہ، مصر میں انصار بیت المقدس، لیبیا میں انصار الشریعہ اور نائجیریا میں بوکو حرام کو پیش کیا جا سکتا ہے۔

اس مقالہ میں القاعدہ تنظیم کی قدرت کے کم هونے اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کے زوال کے بعد سلفی جہادی تنظیموں کی پیشرفت اور ان کے فروغ کی تجدید حیات پر موثر آئیڈیا لاجی کے علل و اسباب کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی هے.

۱۔ عراق پر امریکی حملہ

حقیقت یہ ہے کہ سن ۲۰۰۱ میں طالبانی حکومت کے زوال کے بعد، سلفی جہادی نظریات کافی حد تک فراموشی کی نذر ہو گئے۔ اس کے بعد ان کے عمدہ عناصر خطے کے عرب ممالک خاص طور پر اردن، لبنان اور عراق کی طرف ھجرت کر گئے۔ ابو مصعب زرقاوی اس سلسلہ کی بنیادی اور کلیدی کڑی ہے۔ اس بات کے پیش نظر کہ اس نے سن ۲۰۰۴ میں اسامہ بن لادن کے ہاتھوں پر بیعت کی تھی، اس کے باوجود القاعدہ کی بحرانی حالت اور طالبانی حکومت کا سقوط سبب بنا کہ زرقاوی جیسے افراد بھی القاعدہ کی تاریخی شخصیتوں میں اپنا نام درج کرا سکیں۔

سن ۲۰۰۳ سے زرقاوی نے شام میں اولین جہادی سلفی سلسلوں کی تاسیس کرنے کی کوشش کی اور اس کے بعد عراق کے کردستان علاقہ میں اس کی بنیاد رکھی۔ اپریل ۲۰۰۳ میں جس وقت امریکی فوجوں نے بغداد پر قبضہ کیا اور صدام حسین کی حکومت کو سرنگوں کیا، اس وقت زرقاوی نے اپنی آئیڈیا لاجیکی روش کو امریکیوں کے قبضہ کو ختم کرنے کے لئے ان سے مقابلہ کی بنیاد پر استوار کیا۔ اس نظریہ کی بنیاد ایک مسلکی مذہبی فکر پر مشتمل تھی جس کی بنیاد پر امریکی فوج نے عراق پر حملہ اور قبضہ کرکے وہاں کی قدیمی سنی حکومت کو شیعوں کے حوالے کر دیا اور اہل سنت کو وہاں سے بے دخل کر دیا۔ یہ نظریہ جو نہایت شدت کے ساتھ سلفی نظریات کی تقویت کرتا تھا، شیعہ سنی تقابلی بحث و گفتگو کے ظہور کا باعث بنا، جس کی بنیاد پر اہل سنت صلیبی و صفوی مخالف اتحاد وجود میں آیا۔

فکری مرجعیت کے اعتبار سے ایک مصری سلفی شیخ ابو عبد اللہ المہاجر کے نظریہ نے عراق میں سلفی مسلکی نظریہ کی تاسیس کی اور طائفہ منصورہ کے نظریہ  کے سلسلہ میں سب سے زیادہ فکری تاثیر چھوڑی ہے۔

یہ ماہیتی نظریہ موجب بنا کہ مغربی عراق کے اہل سنت کی بزم میں "زرقاوی" ایک خاص مقام و مرتبہ حاصل کر سکے۔ اس مسئلہ کی اہمیت اس وقت اجاگر ہوجاتی ہے جب ہمیں اس بات کا علم ہوگیا کہ اس نے اس راہ میں عراق کی بعثی پارٹی کی حمایت بھی حاصل کر لی تھی، جس کا وہاں کی مقامی سیاست میں کوئی کردار باقی نہیں رہ گیا تھا۔ زرقاوی کا دائرہ بہت کم عرصہ میں کافی بڑھ چکا تھا اور اس نے مختلف ممالک کے بہت سے افراد کو اپنی طرف جذب کر لیا تھا۔ عراق میں زرقاوی کی سیاست ماہیتی مشکل و مسئلہ کو بڑھا جڑھا کر پیش کرنے اور مسالک کے آپسی تقابل پر استوار تھی۔

زرقاوی کو بڑی کامیابی سن ۲۰۰۳ میں فلوجہ کی لڑائی میں حاصل هوئی، جس کی بدولت اس نے خطے میں موجود امریکی فوجیوں پر حملہ کی سیاست سے اپنی فوج کے لئے سپاہی اور اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے استفادہ کیا۔ اگرچه زرقاوی اور اسامہ بن لادن کی سیاسی روش میں بعض اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن ہم اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ مشترک منافع کی وجہ سے زرقاوی نے القاعدہ کے رہبر کے ہاتھ پر بیعت کی اور "قاعدۃ الجھاد فی بلاد الرافدین" نامی گروہ کی تاسیس کی۔ اس لحاظ سے عراق میں پہلے جدید سلفی جہادی گروہ کی تشکیل میں دو امر موثر واقع ہوئے تھے:

۱۔ امریکی فوج کی عراق میں موجودگی

۲۔ قریبی دشمن (شیعوں) سے اسٹراٹیجی مقابلہ

عراق میں القاعدہ کے رہبروں کی حکمت عملی میں شیعوں کی تکفیر نہایت اہمیت کی حامل رہی ہے یہاں تک کہ عراق میں القاعدہ کی شرعی عدالت کے پہلے سربراہ "ابو انس الشامی"  نے الشیعہ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی جس میں اس نے زرقاوی کے نظریات کے مطابق مسلکی نظریات کی تبیین و تشریح کی ہے۔ زرقاوی اس بارے میں کہتا ہے: رافضیوں (شیعوں) نے اہل اسلام کے خلاف جنگ کی ابتداء کی ہے۔ وہ اہل سنت کے لئےخطرناک دشمن ہیں۔ اگر چہ ہمارا اصلی دشمن امریکہ ہے لیکن ان رافضیوں کا خطرہ امریکہ سے بھی زیادہ ہے۔

عراق کی مرکزی حکومت اور زرقاوی کی فوج کے درمیان اختلافات میں شدت پیدا ہونے کے بعد اس نے اعلان کیا کہ شیعوں کے لشکر سپاہ بدر سے مقابلہ کے لئے اس نے ایک فوج "سپاہ عمر" کے نام سے بنائی ہے۔ سن ۲۰۰۶ کے بعد سے زرقاوی نے کوشش کی کہ عراق کی سنی عوام کو شیعہ احزاب سے جنگ اور (عراق میں ایران کی دخالت) مقابلہ کے لئے تیار کرے، ان سب کے باوجود الانبار ریاست میں ایک مستقل اسلامی حکومت بنانے کا اس کا خواب سن ۲۰۰۶ میں اس کے مرنے تک ہرگز پورا نہیں ہو سکا۔

۲۔ عرب ممالک میں ہونے والے انقلابات کی شکست

سن ۲۰۱۱ میں تیونس، مصر ، لیبیا اور دوسرے عرب ممالک میں ہونے والے عوامی انقلاب کو، عرب ممالک کی تاریخ معاصر میں ایک بڑی تبدیلی شمار کیا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی بار اسلام کی طرف مایل هونے والی سیاسی پارٹیوں کو، جن میں اخوان المسلمین سب سے برجستہ جماعت تھی، اجازت دی گئی کہ وہ انتخابات کے انعقاد میں آزادانہ طور پر شرکت کر سکتے ہیں اور پارلیمینٹ میں کرسی حاصل کر سکتے ہیں اور یہ نهیں بلکه حکومت بهی تشکیل دے سکتے ہیں۔ "سیاسی اسلام" کی تنظیموں کو اس راہ میں دو اہم مخالفتوں کا سامنا  تھا:

سیاسی پارٹیاں اور سیکولر جماعتیں

سلفی تنظیمیں: ان پارٹیوں پر سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ "سیاسی اسلام" گروہوں کی ماہیت یعنی ان کی مشارکت، انہیں سیاسی عمل سے باز رکھنے والی تھی۔ شرعی امور سے قطع نظر سلفیوں کو اخوانیوں کی حکمت عملیوں پر اعتراض تھا اور وہ یہ کہ بنیادی طور پر عرب ممالک اور مغربی ممالک کی حکومتیں انہیں ہرگز حکومت تک پہچنے نہیں دیں گی اور حکومت حاصل کرنے کا واحد راستہ تلوار اور شمشیر سے ہو کر گزرتا ہے۔

ہر چیز سے زیادہ یہ تصور کرنا که الجزایر میں اسلام پسند گروں کی مشارکت کے تجربہ کی شکست اور الیکشن میں فتح کے باوجود ان پر تشدد ہونا، بہت جلدی اور محض ایک سال کے بعد مصر میں اخوان المسلمین کے سربراہ محمد مرسی کی حکومت کے زوال کے ساتھ، حقیقت میں تبدیل ہو گیا۔ ایک بار پھر الجزایر کا تجربہ تکرار ہوا اور اخوان المسلمین کی اسلامی حکومت وہاں کی فوج کے ذریعہ سرنگون کر دی گئی۔ شاید سلفی فکر رکھنے والے جہادیوں کا گروہ محمد مرسی کی حکومت کے گرنے سے خوش ہونے والا پہلا گروہ رہا ہوگا۔ اس تجربہ نے ان کے ہمیشہ کے دعوی کو ثابت کر دیا تھا کہ پر امن طریقے سے کوشش کرنا بے فائدہ ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد تیونس میں بھی حزب النہضۃ کے اسلام پسندوں کے لئے فضا تنگ کر دی گئی اور وہ ان لوگوں کو ترجیح دینے لگے جنہیں الیکشن میں کامیابی حاصل ہوئی تھی تاکہ ایک نا معلوم مدت تک قدرت سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں کیونکہ جو کھچ مصر کے اخوان المسلمین گروہ کے ساتھ پیش آیا تھا وہ ان کے ساتھ پیش نہ آئے۔ مصر کی حکومت کے سقوط کے بعد سب سے پہلا طنزیہ رد عمل افریقی ملک سومالیہ کے سلفی گروہ الشباب کی طرف سے آیا جس میں کہا گیا: وہ لوگ کسی بھی صورت میں اسلام پسندوں کو حکومت نہیں بنانے دیں گے، قدرت حاصل کرنے کا واحد راستہ شمشیر (جہاد) سے گزرتا ہے۔ اس کے کچھ بعد لیبیا میں بھی اسلام پسندوں کے لئے زمین تنگ ہو گئی اور اخوان المسلمین سے قربت رکھنے والے گروہوں نے وہی راستہ انتخاب کیا جو تیونس میں حزب النہضۃ نے اختیار کیا تھا۔

شمال افریقا میں سلفی جہادی گروہوں کی تجدید حیات کی پہلی رمق کو تیونس کی انصار الشریعہ تنظیم میں جستجو کرنا چاہئے۔ یہ سلفی گروہ کہ جس نے انقلاب کے بعد پر امن طریقے سے جمہوری تقاضوں کا لحاظ کرنے ہوئے الیکشن میں شرکت کی تھی، اس نے دھیرے دھیرے شدت پسندی کا راستہ اختیار کر لیا اور وہ تیونس، اس کے بعد لیبیا اور شمال افریقا میں باقاعدہ ایک سراسر مسلح گروہ میں تبدیل ہو گیا۔ یہ سلسلہ مصر تک جا پہچا اور ایسا ملک جہاں سالہا سال سلفی جہادی گروہوں کی کوئی فعالیت نہیں تھی اس بار وہ بھی القاعدہ کے مقامی گروہوں جیسے انصار بیت المقدس اور المرابطون  کے ساتھ صحرائ سینا میں جنگ میں پھنس چکا تھا۔ ان گروہوں نے مصر کے ان جوانوں کو اپنی طرف جذب کر لیا تھا جو پر امن کوششوں سے نالاں تھے ۔

انقلاب برپا کرنے والے ملکوں میں  مضبوط اور مرکزی حکومت کے فقدان نے مسلح گروہوں کے لئے مناسب ماحول فراہم کر دیا۔ ان سب کے با وجود جس چیز نے سلفی جہادی گروہوں کو سب سے زیادہ تقویت پہچائی ہے وہ مشرق وسطی کے بحرانی حالات تھے۔

۳۔ شام و عراق کا بحران

اسلام سیاسی کی تنظیمیں جیسے اخوان المسلمین، سلفی جہادی گروہوں کی ترقی کے بارے میں دو نظریہ رکھتی ہیں۔ ایک نظریہ کے مطابق سیاسی احزاب و گروہوں پر ظلم کے نتیجہ میں طبیعی طور پر ان واقعات کا ظاہر ہونا، دوسرے نظریہ کے مطابق، یہ سارے گروہ ایک سناریو اور سازش کے طور پر عربی و غربی حکومتوں کی طرف سے سامنے آئے، جن کا مقصد بہار عربی کو شکست دینا اور انہیں منحرف کرنا تھا۔ یہ نظریہ سب سے زیادہ شام کے حالات پر متمرکز نظر آتا ہے جس کا ماننا ہے کہ اس طرح  کے گروہ کا وجود میں لانا بنیادی طور پر ایک امنیتی سناریو و سازش کا نتیجہ تھی۔ ان سب کے باوجود معلوم ہوتا ہے کہ ان گروہوں کی ترقی کی راہ پر گامزن رہنے کو چند سال پہلے عراق میں پیش آنے والے تاریخی واقعات میں جستجو کرنا چاہئے۔

حقیقت یہ ہے کہ زرقاوی نے اپنے جانشینوں کے لئے ایک منظم فہرست چھوڑی تھی۔ زرقاوی کے جانشین ہمیشہ سلفی نظریہ کی حامل ایک اسلامی حکومت کی تشکیل کے لئے مضبوط ارادہ رکھتے تھے۔ جس کا اعلان سن ۲۰۰۶ میں الانبار، کرکوک، نینوا، دیالی، صلاح الدین، بابل اور واسط جیسے اضلاع میں ایک خود خواندہ اسلامی حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہوا۔ اس کے باوجود اس سال کے بعد "الصحوہ" گروہوں کی تشکیل اور عراق میں امریکی فوجوں کی تعداد میں اضافہ کے سبب زرقاوی کے جانشینوں کے حق میں حالات کندی سے آگے بڑھ رہے تھے البتہ جو چیز واضح اور مشہود تھی وہ یہ کہ شیعہ مخالف تحریک کا دائرہ بہت بڑھ چکا تھا۔ اس سلسلے میں عراق کے سلفی گروہ ہمیشہ اس مسئلہ پر استناد کرتے تھے کہ امریکی افواج کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ اہل سنت کے اسلام پسند گروہوں کو اور زیادہ حاشیہ پر ڈال دیا گیا ہے۔

سن ۲۰۱۱ میں جب ابو بکر البغدادی ، "دولت اسلامی عراق" کا امیر منتخب ہوگیا تو یہ گروہ ایک نئے مرحلہ میں داخل ہو گیا۔ جس کے بعد "سنی مذہبی ماہیت" کی حمایت میں عراق کے القاعدہ کی گفتگو کا جدید نظریہ تمام مشرق وسطی خاص طور پر عراق، شام اور لبنان میں بہار عربی کے نام سے ہونے والے انقلابات کے دور میں تبدیل ہو گیا۔

شام میں مسلح اخوانی اور سلفی گروہوں کی آپسی کشمکش بهت جلد شام میں رونما ہونے والی تبدیلی سے جڑ گئی۔ بشار الاسد کی حکومت کے مخالف جن گروہوں کی مکمل طور پر عربی اور غربی ممالک کی طرف سے حمایت کی جا رہی تھی، ان گرہوں نے شام کے ایک بہت بڑے علاقہ پر قبضہ کر لیا۔ سلفیوں کے مطابق شام میں رونما ہونے والی تبدیلی نہایت شدت کے ساتھ مذہبی ماہیت کی حامل تھی۔ ابو بکر بغدادی کے امیر بننے اور حزب اللہ لبنان کے سپاہیوں اور شیعہ گروہوں کے شام میں وارد ہونے کے ساتھ ہی لوگوں کو اس فضا کو شدت کے ساتھ مسلکی رنگ دینے کا موقع فراہم کرنے لگی۔

واضح یہ تھا کہ سلفی جہادیوں کی اس گفتگو سے پہلے تک اسلام سیاسی کے مقابلہ  میں اخوانیوں کا کوئی قابل ذکر مرکز ملک شام میں نہیں تھا۔ حالانکہ ان تنظیموں کی اولین علامات اس وقت ظاہر ہوئی جب ابو بکر البغدادی نے شام کی القاعدہ کی شاخ کو عراق کی القاعدہ کی شاخ میں ضم کرکے شام و عراق میں ایک اسلامی حکومت کی تشکیل کی خبر دی۔

بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ شامی حکومت نے گزشتہ برسوں میں القاعدہ سے قریب اسلام پسندوں کے گروہوں کی حمایت کی تھی، جس کا مقصد عراق میں امریکی فوجوں سے مقابلہ کرنے کے لئے ان گروہوں کے لئے خطہ میں مناسب فضا کو ہموار کرنا تھا۔ شام میں محاذ آرائی شروع ہونے کے محض تین مہینہ بعد جہاد علاقہ کے اخوانی اور سلفی تمام گروہوں کا شعار "جهاد" بن گیا تھا جن میں گردان ھای عبد اللہ عزام، لبنانی گروہ فتح الشام، گروہ جیش الاسامہ و احرار الشام شامل تھے۔ ان کی حرکات و سکنات القاعدہ کے رہبروں کی طرف سے رصد ہوتی رہیں اور ہمیشہ شام کے ان سلفی گروہوں اور القاعدہ کے رہبروں کے درمیان بطور عیمق رابطہ برقرار رہا۔ جبھۃ النصرۃ گروہ جہادی نظریات کی بنیاد پر وجود میں آیا اور شام میں اس نے دنیا بھر کے مختلف ممالک سے بڑے پیمانے پر افراد کو جمع کیا اور شام کے میدانی حالات کے اہم بازیگر میں تبدیل ہو گیا۔ تمام آپسی اختلافات کے باوجود اس نے اپنی اسٹریٹجی ترجیحات؛ دور اور نزدیک کے دشمن؛ کے تحت القاعدہ کی شام و عراق کی دونوں شاخوں کے مسلکی نظریات اور صفویہ ایران سے مقابلہ النصرہ تنظیم کی گفتگو میں بھی عراق کی القاعدہ تنظیم کی طرح واضح طور پر نظر آتی ہیں۔

لہذا ہم اس بات کے شاہد ہیں کہ شام میں ان دو طرفہ چیزوں نے سلفی جہادی گروہوں کی تقویت میں تیزی بخشی ہے:

۱۔ شام میں بہار عربی  کی عملی شکست کا رجحان

۲۔ شیعہ سنی تقابلی بحث و گفتگو

اس دور میں ایسی تبدیلی جو آئیڈیالاجی کے طور پر وجود میں آئی وه یہ تھی کہ اس نے بشار الاسد کی دو طرح سے مذہبی تکفیر کی۔ (پہلی ابن تیمیہ کی روش سے) اور دوسری (اخوانی طرز فکر سے) نا مشروع حاکم کی تکفیر۔ ایسی تبدیلی جس نے دو تکفیری طرز فکر کو ایک ساتھ جمع کر دیا اور وہ سبب بنی کہ شام میں حالات نہایت تیزی کے ساتھ شدت پسندی کی طرف رخ کر لیں اور مشرق وسطی سے لیکر شمال افریقا تک مختلف ممالک سے افراد سیلاب کی طرح خود بخود شام کی طرف روانہ ہو جائیں۔

البتہ عراق میں سن ۲۰۱۱ اور واشنگٹن اور بغداد کے درمیان ہونے والے امنیتی معاہدے کے خاتمہ کے ساتھ، عراق میں ایران سے قریب احزاب اور گروہوں کی فعالیت اور ان کا رسوخ بہت بڑھ چکا تھا۔ یہ ایسا مسئلہ تھا جس نے ایک بار پھر برسوں پر محیط ایک مدت کے بعد شیعہ سنی نزاع و بحث کی تجدید کی۔ اورعراقی حکومت میں شیعوں کی نمائندگی میں نوری المالکی کے اثر و رسوخ کے بڑھنے اور امریکی مسلح افواج کے عراق سے خارج ہو جانے کے بعد پیدا ہونے والے امنیتی خلا کے سبب سلفی جہادی گروہ ایک جدید مرحلہ میں داخل ہو گئے اور انہوں نے عراق میں تشکیل حکومت کے اپنے دیرینہ خواب کو شرمندہ تعبیر کر لیا۔ بہار عربی کے انقلاب کے دور میں، عراق کے سنی نشین علاقوں میں نا امنی اور بعض مقامی سربراہوں کی ہمراہی نے ابو بکر بغدادی کے بلند پرواز اغراض و مقاصد کی راہ میں ایک مناسب ماحول فراہم کیا اور اس کے لئے شہر موصل اور عراق کی سر زمین کے ایک بڑے حصے پر قبضہ اور آخر کار اسلامی حکومت کی خلافت کے با قاعدہ اعلان کا موقع فراہم ہو گیا۔

مصر، تیونس ، لیبیا اور سیاسی پارٹیوں کے افراد پر فوجیوں کی طرف سے کئے گئے تشدد جس کو اسلام طلب افراد کے درمیان انقلاب متضاد کے نام سے پهچانا جاتا ہے، کی تاثیر کا دائرہ مصر اور شمالی افریقا تک محدود نہیں رہا اور سلفی جہادی گروہ جیسے داعش نے ان واقعات سے اپنے افکار و نظریات کی ترویج کی راہ میں استفادہ کیا۔ اس متعلق اگست ۲۰۱۴ میں داعش کے ترجمان "ابو محمد العدنانی" کی وہ باتیں نہایت اہمیت کی حامل ہیں جو اس نے اپنے ایک پیغام " پر امن طریقہ کار، کس کا دین ہے؟" کے عنوان سے اخوان المسلمین کے عمل پر تنقید کرتے ہوئے بیان کی هیں اور ان کو مسلح قیام کرنے اور سلفی جہادی گروہ سے ملحق ہونے کی نصیحت کی ہے۔

یهاں تک که اگر ہم قبول کر لیں کہ سلفی جہادی نظریہ جیسا کہ فواد حسین اپنی کتاب "زرقاوی، القاعدہ کی دوسری نسل" میں لکھتے ہیں : چھٹے مرحلہ کی توسیع کے اہداف جو "ہمہ گیر خواب ۲۰۲۰ تک" کے نام سے موسوم ہے، شکست کھا چکا ہے تو حقیقت یہ ہے کہ یہ گروہ خطے میں بڑے پیمانے پر قابل ذکر کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔ یہ مقالہ کسی بھی صورت میں سلفی جہادی تنظیموں خاص طور پر داعش اور القاعدہ کی پیدایش و تشکیل کی ہمہ جانبہ تبیین کے فراق میں نہیں ہے اور کسی بھی عنوان سے خطے کے ممالک یا بیرونی ملکوں کے خفیہ اداروں کی کوششوں اور ان کے اثر و رسوخ کی نفی نہیں کرتا ہے، نیز اقتصادی اور سماجی حوالوں کا بھی منکر نہیں ہے۔ ان سب کے بعد بھی اس مقالہ میں سعی کی گئی ہے کہ وہ بتائے کہ کون سے آئیڈیالاجیکی وسائل و ذرائع خطے میں سلفی جہادی گروہوں کی تشکیل اور توسیع میں موثر واقع ہوئے ہیں۔

نظریه ارسال