تکفیری وہابیت (دورہ معاصر)
تاریخ انتشار : 1/5/2017

ڈاکٹر سید مھدی علیزادہ  موسوی

خلاصہ

وہابیوں کی خوارج سے شباہت کے سلسلہ میں  تکفیر کے مسئلہ کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔  یہ دونوں گروہ اسلامی تاریخ کے طول و عرض میں مسلمانوں کے خون و مال کو فضول بہانوں سے  مباح اعلان کر دیتے تھے اور آج بھی یهی کرتے ہیں۔ البتہ گویا وہابیوں نے تکفیر کے اس مسئلہ میں خوارج کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے؛ کیونکہ خوارج گناہ کبیرہ کے مرتکب افراد کی تکفیر کرتے تھے لیکن وہابی اس مسلمان کی تکفیر کرتے هیں جو اپنی ذمہ داریوں پر عمل کر رہا ہے جیسے زیارت، اولیای الہی سے توسل، اسلامی مراسم کا انعقاد ( جن کی شریعت تاکید کرتی ہے) ، اس کے خون اور مال کو مباح قرار دیتے ہیں۔ اس  مقالہ میں اہل سنت اور شیعوں  کے متعلق وہابیوں کے نظریات اور خوارج کے ساتھ ان کی شباہت کو بیان کیا جائے گا۔

مقدمہ

وہابیت کے فتنہ کی ابتدا کو تین صدیوں سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے اور اس مدت میں وہابیت نے بہت سے نشیب و فراز طے کئے ہیں ، لیکن داخلی و خارجی حالات اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ کبھی بھی ان کے افراطی نظریات میں  کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ البتہ وہابیت کی بعض داخلی تحریکوں نے عالم اسلام اور اپنے معاشرہ کی واقعیت کے رد عمل میں اعتدال کا دامن تھام لیا ہے؛ لیکن یہ گروہ وہابیت کی اکثریت فضا پر تو کوئی اثر نہیں ڈال سکے بلکہ خود  وہابی معاشرہ میں الگ تھلک هوکر ره گئے ہیں۔

گذشتہ صدی میں عالم اسلام  جدید حالات کے تجربہ سے گزر رہا ہے، امریکہ اور اسرائیل جیسےمشترک بڑے دشمنوں کا وجود ، مغربی ممالک میں اسلام مخالف فضا کے وجود میں آنے اور مغربی ممالک میں اسلام کا خوف پیدا کرنے اور اس کے مقابلہ میں اسلامی بیداری میں رشد نے مسلمان ممالک میں ہم فکری اور اتحاد کا راستہ فراہم کر دیا ہے۔ اسی طرح  اسلامی ممالک میں تکفیری گروہوں جیسے القاعدہ، سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور حزب التحریر کی کاروائیاں،تکفیری افکار و نظریات کے زوال کا سبب بن گئیں اور وہ سلف سے خوف زدہ ہو نے لگے، لهذا  اس عرصہ میں مسلمان شدت پسند تکفیری اور خودکش حمله کرنے والوں کی طرف مائل هونے سے تھک چکے ہیں، آج وہ اتحاد اور ہم دلی کی راہ تلاش کررہے ہیں تا کہ وہ اپنے طاقتور اور متحد دشمن کے مقابلہ میں کامیاب ہو سکیں۔

 اب جبکه عالم اسلام کو ہمیشہ سے زیادہ اتحاد کی ضروورت هے تو تکفیری وہابیت ہمیشہ کی طرح تکفیر کے راگ الاپ رہی ہے اور اپنے اسلاف کی طرح اپنے قسم خوردہ دشمن سے مقابلہ کے بجائے عالم اسلام میں تکفیر کے بیج بو رہی ہے اور مسلمانوں کی طاقت کا شیرازہ بکھیر رہی ہے۔

جن حالات نےآج وہابیت کو ان کے ماضی سےجدا کیا ہے وہ ان کے ذریعہ اختیار کئے گئے طریقے اور حکمت عملی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر وہ ماضی میں باقاعدہ طور پر (علی الاعلان)مسلمانوں سے جنگ کرتے تھے تو آج تکفیری افکار کے ضعف و زوال کے سبب انہوں نے اپنے دشمن کی اولویت بندی کر دی ہے؛ اس لحاظ سے کہ ظاہرا  اہل سنت کے بعض گروہ کی تکفیر سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں اور انہیں دوسرے اسلامی مذاہب و مسالک کی تکفیر کی طرف مایل کرتے ہیں؛ لیکن در اصل ان فرقوں کو اپنے آلہ کار کی طرح استعمال کرتے ہیں .مسلمانوں کے ساتھ ،معاصر وہابی بزرگان کے اقوال و افکار اور اس مسلک  کے دوسرے تمام تضاد بلند آواز سے فریادکررهے ہیں۔

۲۔ وہابیت، اہل سنت اور اجماع

زمانہ قدیم سے "اہل سنت و جماعت" کا لفظ فقہی چاروں مذاہب کے ماننے والوں کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔ وہ سب بھی عقاید کے سلسلے میں اپنے نظریات کے مطابق اشعری و ماتریدی مکتب فکر کے پیروکار ہیں؛ لیکن معاصر وہابیوں نے "اہل سنت و جماعت" کی ایک نئی تعریف پیش کرنے کا کام نہایت سنجیدگی سے شروع کر دیا ہے۔ ایسا نظریہ جو ابن تیمیہ کے افکار کی بنیاد پر ہو، البتہ گزشتہ چند دہائیوں میں اس متعلق بیحد تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ وہابیوں کی تعریف کے مطابق" اہل سنت و جماعت" کا لفظ فقط انهی کے اوپر صادق آتا ہے۔ وهابی عالم "صالح بن فوزان" اس سوال " کیوں ابن تیمیہ کے بہت سے فتاوی اہل سنت و جماعت کے فتاوی کے خلاف ہیں"کے جواب میں کہتا ہے:

اور یہ ایساجھوٹ ہے جس کی نسبت شیخ الاسلام ابن تیمیہ  کی طرف دی گئی ہے۔ انہوں نے تمام ائمہ (چاہے وہ ائمہ اربعہ ہوں یا ان سے پہلے کے سلفی ائمہ)کے برخلاف ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے … مگر یہ کہ سوال کرنے والے کی مراد اہل سنت و جماعت سے اشاعرہ و ماتریدیہ گروہ ہوں۔ یہ ایک غلط اصطلاح ہے؛ کیونکہ اہل سنت و جماعت سے مراد وہ لوگ ہیں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور صحابہ کی سنت پر عمل کرتے ہیں اور وہی فرقہ ناجیہ ہیں …لیکن اشاعرہ اور  ماتریدیہ نے صحابہ ، تابعین اور  ائمہ اربعہ کی بہت سے اعتقادی مسائل اور اصول دین میں مخالفت کی ہے۔ اس بناء  پر یہ اس لائق نہیں ہیں کہ انہیں اہل سنت و جماعت کا لقب دیا جائے اور ان گروہوں کی شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور تمام ان علماء اور ائمہ نے مخالفت کی ہےجو سلف کی روش پر تھے ۔ ان سب باتوں کے ذریعه نہایت آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ فوزان کا قول اکثریت کو شامل ہے؛ یعنی اہل سنت کی اکثریت عقاید میں یا اشعری مکتب فکر کی پیروی کرتی ہے یا پھر ماتریدی مذہب کی پیروی کرتی هے؛ لیکن فوزان نے ان سب کو با قاعدہ طور پر اہل سنت و جماعت کی صف سے خارج کر دیا ہے۔ عثیمین نے بھی اہل سنت کے بارے میں اسی طرح کے دعوی کو متعدد بار بیان کیا ہے:  تمام مسلمانوں کو اہل سنت و جماعت کا نام دینا ممکن نہیں ہے ؛ کیونکہ یہ اضافہ نسبت کی اقتضا چاہتا ہے۔ اہل سنت، سنت پر عمل کرنے سے منسوب ہیں؛ چونکہ وه سنت پر عمل کرتے ہیں؛ جبکہ یہ لوگ انجام شده انحرافات اور تحریفات کی وجه سے  اس نسبت سے دور ہو چکے ہیں۔ اسی طرح جماعت در اصل اجتماع (اجماع)کے معنی میں ہے جبکہ یہ لوگ اپنے نظریات میں اجماع نہیں رکھتے ہیں۔ ان کی کتابوں میں تناقض، پراکندگی اور تداخل پایا جاتا ہے اور بعض نے بعض کو گمراہ کا نام دیا ہے اور کبھی کبھی وہ متضاد باتیں کرتے ہیں۔

البتہ یہ اعتراض پہلے مرحلہ میں خود وہابیوں اور سلفیوں پر وارد ہوتا ہے؛ کیونکہ وہابی تمام مسلمانوں پر انحراف کی تہمت لگاتے ہیں اور صرف دین کے سلسلے میں اپنے افراطی نظریہ کو قبول کرتے ہیں۔

وہ اسی طرح طلاب علوم دینیہ کو نصیحت کرتا ہے کہ وہ صرف ان صحیح و سالم کتابوں کو پڑھیں اور ان سے استفادہ کریں جو سلف صالح اور اہل سنت و جماعت کے مذہب کے مطابق لکھی گئی ہیں، یا کتاب و سنت سے مطابقت رکھتی ہیں اور سلف کی روش سے مخالفت رکھنے والی کتابوں سے پرہیز کریں جیسے اشاعرہ ،معتزلہ ، جہمیہ اور دیگر گمراہ فرقے۔ یهانتک که عثیمین نے صحیح مسلم کے شارح نوری اور ابن حجر جیسی شخصیتوں کو اہل سنت کے دائرہ سے خارج کر دیا ہے اور کہا ہے:

اسماء اور صفات کی بحث میں ان کے اعتقادات نے انہیں اہل سنت و جماعت کے دائرہ سے خارج کر دیا ہے۔

دوسری طرف وہابیت تقلید میں اپنے نظریات کے مطابق اور "بغیر مذھب کے اسلام "کی طرف دعوت دینے کے سلسلہ میں (جو خود ایک نیا مذھب ہے) با قاعدہ طور پر اہل سنت کے مختلف مذاہب سے بر سر پیکار ہے: مقلد، خدا او رپیغمبر (ص) کا مطیع نہیں ہے؛ بلکہ وہ ائمہ اور ان بزرگوں کا پیرو ہے جن کی وہ تقلید کرتا ہے اور ان سے خدا اور رسول (ص) سے زیادہ محبت کرتا ہے؛ کیونکہ اس نے خدا کی اطاعت اور پیغمبر کی پیروی کو ترک کر دیا ہے اور ان کے علاوہ دوسروںکی اطاعت کو بغیر دلیل کےچن لیا ہے۔

"قنوجی" اس حصه میں جو" تقلید المذاھب من الشرک" کے عنوان سے آغاز ہوتا ہے، کہتا ہے: مذاہب کے مقلدین کے سلسلہ میں دقت کرو کہ وہ کس طرح سے اموات، علماء اور  اولیاء کی پیروی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کتاب  و سنت کو سمجھناصرف انهی لوگوں سے مخصوص ہے۔

لیکن وہ بھول گئے ہیں کہ سلفی اور  وہابی مذہب کی بنیاد خود تقلید کے نظریہ پر استوار ہے، وہ بھی ایسی تقلید جس کی بیناد ، صدر اسلام کی تین ابتدائی صدیوں قبل غور و فکر کے بغیر رکھی گئی ہے اور وہ لوگ خود ابن تیمیہ اور محمد بن عبد الوہاب کو نئے  پیغمبروں کی طرٖح مانتے ہیں؛ دوسرے یہ کہ "تقلید مذاہب"، کتاب خدا اور سنت پیغمبر (ص) کے طول میں قرار دی گئی ہے نہ کہ عرض میں (ساتھ میں ہے نہ کہ مقابل میں) اسی طرح مسجد الحرام کا متوفی مدرس، مذاہب کی پیدایش کو دین میں بدعت مانتا ہے جو اسلام کی ابتدائی تین صدیوں کے بعد وجود میں آئی ہے اور تمام اسلامی فرقے، مذاہب کی بنیاد پر استوار ہیں، اس کے بعد وہ اہل سنت کے فرقوں کی تشکیل کے فلسفہ کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:  اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مذاہب کا وجود دین میں بدعت کے ایجاد ہونے کی وجه سے پیدا ہوتا ہے اور مذاہب کو سلاطین و امراء نے اپنی سیاست کو  اجرا اور اپنی نفسانی خواہشات یا اپنے مرتبہ و منزلت کی حفاظت کے سبب وجود عطا کیا ہے... اور یہ بات تاریخ کا مطالعہ کرنے والے ہر انسان کے لئے واضح ہے۔

لیکن کیا وہابیت اس طرح کے نظریات کا اهم ترین مصداق نہیں ہے؟ کیا وہابیت مسلمانوں کے درمیان ہونے والے اهم ترین تجزیہ اور تفرقہ کا سبب نہیں ہے؟ اور کیا اس گمراہ فرقہ سے سب سے زیاده آل سعود نے فائدہ نہیں اٹھایا ہے؟

تمام مذاہب کو ردکرنے کے بعدوہابیوں نے معین مذاہب کی بھی تکفیر کی ہے۔ فوزان نے سعودی عرب کے دورہ  متوسطہ کے پہلے سال کے نصاب کی غرض سے جو کتاب تالیف کی ہے اور جسے سعودی عرب کی وزارت تعلیم و تربیت نے شائع کیا ہے، اس میں گزشتہ زمانہ کے مشرکین، مشرکین کے اسلاف کو جھمیہ، معتزلہ اور اشاعرہ کے طور پر بتایا گیا ہے۔

فوزان نے اپنے اسلاف کی طرح عالم اسلام کو جہل و شرک میں غرق هونے سےتوصیف کیا ہے اور انسانی معاشرہ میں گمراہ رہبری کو اس کی علت بیان کیا ہے۔ عثیمین نے بھی اپنے اسلاف کی طرح اس دعوی کی تکرار کی ہے کہ مسلمان آج بھی شرک در عبادت میں گرفتار ہیں  اور زیادہ تر لوگ توحید در عبادت کے سلسلہ میں کافر ہو چکے ہیں۔

اسی طرح بہت سی جگهوں پر علمائے اہل سنت کی معین طور پر تکفیر کی گئی ہے۔ البانی نے جامعہ الازھر کے استاد شیخ شعراوی کو ایک منحرف عقاید کا انسان بتایا ہے جسے سنت کا کوئی علم نہیں ہے: شعراوی کا شمار جامعہ ازھر کے علماء میں هوتا ہے اور وہ سب کے سب  شدت کے ساتھ سنت سے دور ہیں... وہابی علماء اسی طرح شدت کے ساتھ یوسف قرضاوی پر بھی حملہ کرتے ہیں اور اس کے متعلق نہایت نازیبا کلمات استعمال کرتے ہیں؛ جیسا کہ وهابی عالم "مقبل الوداعی"نے" اسکات الکلب العاوی یوسف بن عبد اللہ القرضاوی" کے عنوان کے تحت ایک تحریر لکھی ہے۔ البانی بھی اس کے بارے میں کہتا ہے:

یوسف قرضاوی جامعہ ازھر کا فارغ التحصیل ہے اور اس نے کتاب و سنت کے مبناء پر درس نہیں پڑھا ہے اور وہ شریعت کے بر خلاف فتوی دیتا ہے..

وہابی اسی طرح سعودی عرب میں رہنے والے اہل سنت کے ساتھ تکفیریوں والا سلوک کرتے ہیں۔ جبکہ حجاز کے علاقہ میں مذهب مالکی اور شافعی کے پیروکار ہیں، اور ایک حصہ میں مذهب تصوف کے پیروکار رہتے ہیں۔ وہابی ان سب کا نہایت شدت سے مقابلہ کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر وهابی عالم"سفر الحوالی"نے مالکی مذهب کے ایک عالم کے خلاف "سید محمد العلوی المالکی" کے نام سےلکھی ہے۔ اس کتاب کا عنوان ہے: "مجدد ملہ عمرو بن لحی و داعیہ الشرک فی ھذا الزمان"۔ الحوالی کہتا ہے:ان دنوں مکہ اور دوسرے شہروں میں ایک کتاب شائع ہوئی ہے جو اس زمانہ میں شرک کی طرف دعوت دینے اور عمرو بن لحی۔ محمد بن علوی المالکی کے دین کو احیا کرنے والوں کی طرف سے شفائ الفواد بزیارۃ خیر العباد کے عنوان کے تحت متحدہ عربی امارات کی وزارت امور دینی و اوقاف کی طرف سے طبع کی گئی ہے۔

وہ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے: دوگانہ پرستی، شرک، بدعت اور گمراہی سب جگہ دیکھنے میں آ رہی ہے ، اس نے اپنے اور منافقین کے تیروں سے اہل سنت کو نشانه بنایا ہے۔

یہ اس صورت میں ہے جب مالکی مذہب کے پیروکار مکہ اور جدہ شہروں میں بہت زیادہ سرگرم ہیں اور آج مکه میں عمر الجیلانی و علی الیمانی اورجده میں عبد اللہ الفدعق ان کے رہبر شمار ہوتے ہیں۔

البتہ جیسا کہ بیان کیا گیا کہ جس وقت تکفیر کی آگ پھیلے گی، خود  تکفیریوں کا دامن بھی اس سے محفوظ نہیں رہے گا۔ مثال کے طور پر وهابی بزرگ عالم ڈاکٹر ربیع مدخلی نے سفر الحوالی  کا شمار خوارج میں کیا گیا ہے،جس نے شیعوں کے خلاف سخت ترین موقف اختیار کیا ہے ایک اور وہابی عالم " عمر الکامل"نے بھی سفر الحوالی کی شدید مزمت کی ہے۔ دوسری طرف"سفر الحوالی" کے طرف داروں نے "الرد الشامل علی عمر الکامل" کے عنوان سے ایک کتاب "عمر الکامل" کے خلاف تحریر کی ہے۔

اسی  طرح سعودی عرب کے ایک عالم "سلمان العودہ" کے نظریات نسبتا معتدل ہیں؛ لیکن وہابیوں نے اس کےخلاف بھی بہت سی کتابیں لکھی ہیں؛ عثیمین نے اس کی تقریر سننے کو ممنوع قرار دیا ہے اور حتی شیخ مقبل بن ھادی الوادعی نے اسے بدعت گزار کہا ہے؛ شیخ عبید الجابری نے بھی مسلمانوں کو اس جیسے سے شخص سےدور رہنے کی تلقین کی ہے۔

اسی طرح ایک دوسرے وہابی عالم "عائض القرنی" نے اپنےاشعار میں"دع الحواشی و اخرج"کے عنوان سے حکومت پر تنقید کی ہے جس کے نتیجہ میں مخالفت کا ایک طوفان اس کی طرف متوجہ ہوگیا۔ شیخ احمد النجمی نے اسے خوارج کے نظریات کا حامل قرار دیا ہے۔

 

۳۔ معاصر وہابیت اور شیعہ

اسلامی ممالک میں رهنے والےشیعوں سے قطع نظرخود سعودی عرب کی مشرقی ریاست میں یهاں تک کہ خود مکہ اور مدینہ میں اثنا عشری شیعوں کی ایک قابل توجہ تعداد موجود ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کے جنوبی علاقہ میں زیدی اور اسماعیلی شیعہ موجود ہیں؛ لیکن وہابیوں نے صرف دوسرے ممالک کے شیعوں  پر هی نهیں بلکہ خود اپنے ملک کے شیعوں کے لئے بھی سخت ترین دینی، ثقافتی، سماجی، سیاسی اور اقتصادی  پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

ایسا  معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ مخالف تحریک جس کا آغاز ابن تیمیہ کے زمانہ سے ہوا تھا اور محمد بن عبد الوہاب کے زمانہ میں اس کی شدت میں اضافہ ہوا تھا، عصر حاضر میں اس کے ابعاد میں مزید اضافہ ہو چکا ہے اور کبھی کھبی تکفیری وہابیوں کے فتاوی میں شیعوں کی تخریب اور ان کی جان و مال کو مباح قرار دیئے جانے کے متعلق فتاوی  دیکھنے میں آتے ہیں۔

جس وقت سعودی عرب کے بزرگ علماء کی کمیٹی کے عضو " بن جبرین"سے ضرورت مند شیعوں کو زکات دینے کے سلسلے میں سوال کیا گیا تو اس نے کہا: علماء نے زکات کےمتعلق اپنی کتابوں میں کہا ہے : کافراور بدعت گزار کو زکات نہیں دی جا سکتی ہے اور بیشک رافضہ (شیعہ) کفار میں شامل ہیں۔

اس کے بعد وہ کہتا ہے: جو بھی انہیں اپنی زکات دے اس پر دوبارہ زکات ادا کرنا واجب هے؛ کیونکہ اس نے انہیں زکات دی ہے جو کفر کی مدد اور اہل سنت سے جنگ کا سبب بنتے ہیں اور جو بھی زکات باٹنے کا ذمہ دار ہے اس کے لئے حرام ہے کہ وہ اس میں سے کچھ بھی کسی شیعہ کو دے اگر اس نے ایسا کیا تو وہ بری الذمہ نہیں ہوگا اور اسے چاہئے کہ وہ اس کی غرامت ادا کرے؛ کیونکہ اس نے امانت کو اس کے اہل کے سپرد نہیں کیا ہے۔

شیعوں کے متبرک مقامات اور زیارت گاہوں کی تخریب کے سلسلے میں "بن جبرین"کے وه فتوے بھی شامل ہیں جو امامین عسکریین علیہم السلام کے روضہ کے انہدام اور خود کش حملوں کا باعث بنے ہیں، اسی طرح جب2006 کی گرمیوں میں ہوئی لبنان اور اسرائیل کی۳۳ روزہ جنگ هوئی تھی اور اس میں حزب اللہ نے اپنی توانائی کے ساتھ بیت المقدس پر قبضہ کرنے والوں کے ساتھ مقابلہ کیاتھا تو اس نے بعض دوسرے وہابی علماء کے ساتھ حزب اللہ کی حمایت کو حرام قرار دیا اور انہیں اسلام سے خارج شمار کیا۔ اسرائیل اور یھودیوں کو اپنا اصلی دشمن ماننے والےمسلمانوں کے لئے یه فتوی نہایت فکر انگیز تھا۔

سفر الحوالی نے بھی ۳۳ روزہ جنگ میں کہا تھا: حزب اللہ، یعنی اللہ کا لشکر، در حقیقت وہ شیطان کا لشکر ہے۔ حزب اللہ کے لئے دعا نہ کریں۔ اس دوران وقفہ وقفہ سے وہابی خطباء اور ائمہ جمعہ اپنے خطاب میں شیعوں کے کافر ہونے کا راگ الاپتے رہتے تھے اور دشمنی کے بیج بوتے رہتے تھے؛ جیسا کہ مسجد نبوی (ص) کے امام جمعہ حذیفی اور بزرگ علماء کی کمیٹی کے رئیس عبد العزیز آل شیخ نے شیعوں کی تکفیر اور ان کے اسلام سے خارج ہونے کےسلسلے میں فتوےدیے ہیں، وہ سب اس داستان کا ایک گوشہ ہیں۔

بعض دوسرے وہابی علماءنے جنهوں نےشیعوں کے بارے میں افراطی نظریات اختیار کئے ہیں  ان کے نام یہ ہیں: عبد العزیز بن باز، شیخ عبد الرحمن براک، ناصر العمری اور ربیع مدخلی۔

۴۔ اسلامی مسالک اور تکفیری وہابیت

وہابیوں کے افکار و اعمال میں تکفیر کے وسیع ابعاد اس بات کا  سبب بن چکے ہیں کہ اسلامی فرق و مذاہب کے بہت سے علماء، اسی زاویہ سے وہابیت کو تنقید کا نشانہ بنائیں۔ مجموعی طور پر جن لوگوں نے وہابی افکار میں تکفیر کے اسباب و عوامل کی مزمت کی ہے، انہیں تین گروہ میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

پہلاگروه: جو لوگ وہابیت کے تحت تاثیر قرار پا چکے ہیں اور وہابی رجحان رکھتے ہیں؛ لیکن تکفیر کے مسئلہ میں وہابیت کی ہمراہی نہیں کرتے ہیں۔اس سلسله میں "شوکانی" کا نام لیا جا سکتا ہے جو خود کو وہابیت کا اصلی حامی مانتے ہیں اور محمد بن عبد الوہاب کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جس وقت وہ تکفیر کی خصوصیات بیان کرتے ہیں تو یہ کہنے پر مجبور هوجاتے ہیں: "لیکن وہابیوں کا عقیدہ ہے جو بھی نجد کی حکومت کو قبول نہیں کرتا اور ان کے فرامین کی اطاعت نہیں کرتا وہ اسلام سے خارج ہے"۔

اسی طرح منصور حازمی جو کہ خود سلفی ہے اور محمد بن عبد الوہاب کی ستائش کرتا ہے،وه بھی اس پر دو اہم اعتراض کرتا ہے: پہلا یہ کہ بعض غیر واقعی امور کی وجه سے روی زمین کے تمام لوگوں کی تکفیر کرتا ہے... اور دوسرے بغیر کسی دلیل و برہان کےبے گناہ انسانوں کا خون بہانا ۔

اهل حدیث اورسلفی شیخ"محمد صدیق حسن خان"وہابیت سے اظہار برائت کرتے ہیں؛ کیونکہ ان کے عقیدہ کے مطابق وهابیوں کو خون بہانے کے علاوہ کچھ اور نہیں آتا۔   اہل حدیث اور سلفی عقاید رکھنےوالےمحدث انور شاہ کشمیری وہابیت کو تکفیر کے مترادف مانتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ وہ لوگ تکفیر کا حکم جاری کرنے میں وقت نہیں لگاتے ہیں۔

دوسرا گروہ حنبلی مذہب کا ہے، وہابی دعوی کرتے ہیں کہ وہ حنبلی مذہب سے زیادہ قریب ہیں۔ بنیادی طور پر وہابیت ایسا انحراف ہے جو حنبلی مذہب سے پیدا ہوا ہے۔ اس کے باوجود بہت سے بزرگ حنبلی علماء نے وہابیوں کے تکفیری نظریات کو چیلینج کیا ہے۔ ابن عفالق حنبلی محمد بن عبد الوہاب کے بارے میں کہتے ہیں: اس انسان نے ایک فاسد قسم کھائی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہود اور مشرکین، اسلامی امت سے بہتر ہیں۔ سلیمان بن سحیم حنبلی بھی محمد بن عبد الوہاب کی توصیف میں کہتے ہیں: جو بھی اس کے ساتھ اس کے تمام نظریات میں موافق نہ ہو اور اس کی باتوں کے صحیح ہونے کی گواہی نہ دے تو وہ کافر ہے اور اگر کوئی اس کا موافق ہو اور ہر چیز میں اس کی تصدیق کرے تو اس کے بارے میں کہتا ہے: تم موحد ہو، اگرچہ وہ فاسق کامل ہی کیوں نہ ہو... شیخ عثمان بن منصور حنبلی سلفی نجدی جو آل سعود کے قاضی بھی رہ چکے ہیں، کہتے ہیں: لیکن اس مرد محمد بن عبد الوہاب نے اپنی اطاعت کو ارکان اسلام کا چھٹا رکن قرار دے دیا ہے۔

اسی طرح کا اعتراض سلیمان بن عبد الوہاب نے بھی اپنے بھائی محمد بن عبد الوہاب پر وارد کیا ہے۔ سلیمان اس سے پوچھتا ہے: اے محمد ارکان اسلام کتنے ہیں؟ وہ جواب دیتا ہے: پانچ۔ سلیمان کہتا ہے: لیکن تم نے اسے چھے کر دیا ہے اور چھٹا رکن یہ ہے کہ اگر کسی نے تیری اطاعت نہیں کی تو وہ مسلمان نہیں ہے؛ اور یہ تیرے نزدیک اسلام کا چھٹا رکن ہے۔

تیسرا گروہ: شیعہ اور دوسرے اہل سنت کے وه مذاہب ہیں جو اپنی وسعت کے اعتبار سے قابل بیان نہیں ہیں۔ اس وہابی گروہ کے تمام نظریات کا شاید "صدقی زھاوی" کی باتوں  میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے: اگر کوئی سوال کرے کہ جعلی مذہب وہابیت کے کیا معنی ہیں اور اس کا ہدف کیا ہے تو ان دونوں سوالوں کے جواب میں ہم کہیں گے: وہابیت تمام مسلمانوں کو تکفیر کرنے کا دوسرا نام ہے۔ یہ جواب اختصار کے با وجود، وہابی مذہب کی تعریف کے لئے کافی ہے۔ بزرگ شافعی عالم زینی دحلان جو فتنہ وہابیت کے معاصر ہیں، اس  مذہب کے تعارف میں کہتے ہیں: وہابی اسلامی امت کو اپنے ظہور سے چھے سو سال پہلے سے تکفیر کرتے تھے اور ان میں سب پہلے مسلمان کی تکفیر کی تصریح کرنے والا محمد بن عبد الوہاب تھا اور وہابیوں نے بھی اس کی پیروی کی۔ جس وقت کوئی فرد اس کے دین میں وارد ہوتا تھا اور وہ اس سے پہلے حج بجا لا چکا ہوتا تھا تو وہ اس سے کہتا تھا کہ جاو دوبارہ حج انجام دو؛ کیونکہ تمہارا پہلا حج شرک کی حالت میں تھا اور وہ تم سے قبول نہیں کیا جائے گا۔

حداد الحضرمی کے بقول:

 اگر کوئی شخص اس کے دین میں داخل ہونا چاہتا تھا تو وہ اس سے کہتا تھا: تم خود اپنے بارے میں گواہی دو کہ تم ماضی میں کافر تھے اور تم شہادت دو کہ تمارے ماں اور باپ اس دنیا سے کافر مرے ہیں اور شہادت دو کہ فلان علماء بھی کافر تھے... وہ شخص اگر ان باتوں کی گواہی دیتا تھا تو اسے قبول کرتے تھے اور اگر گواہی نہیں دیتا تھا تو اسے قتل کر دیتے تھے۔

۵۔ محمد بن عبد الوہاب اپنے بھائی کی نظر میں

گزشتہ بحثوں میں اور اسی طرح اس بحث میں اجمالی طور پر سلیمان بن عبد الوہاب کے بعض اقوال کو وہابیت کے سلسلہ میں بیان کیا گیا؛ لیکن جیسا کہ کتاب" الصواعق الالہیۃ فی الرد علی الوھابیۃ"کے مطالب کی طرف ایک اجمالی اشارہ ضروری ہے، جس کتاب کا شمار ان اهم ترین کتابوں میں هوتا ہے جن کو محمد بن عبد الوہاب کے نزدیکی اور حنبلی عالم کی طرف سے تکفیر کے خلاف لکھی گئی ہے۔

مسلمانوں کو تکفیر کرنے کی وجه سےسلیمان بن عبدالوهاب،وہابی علماء کی شدت کے ساتھ مذمت کرتا ہے اور انہیں علمی اعتبارسے اس لائق نہیں مانتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے کفر اور ایمان کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ کر سکیں، اس کے بعد وہ تکفیر کے بارے میں تاریخ اسلام کے تجزیہ کا ذکر کرتا ہے، تا کہ ایک تاریخی مطالعہ اور تحقیق کے ساتھ وہابیت کے انحراف کے عروج کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی سیرت اور صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے عمل میں دکھا سکے۔

وہ مختلف فصول میں ذکر کرتے ہیں کہ خوارج، اہل ردہ، قدریہ، معتزلہ، مرجئہ و جھمیہ جیسے گروہ، اگر چہ ان کے نظریات ائمہ سلف کے ساتھ متضاد و مخالف تھے، لیکن انہوں نے کبھی تکفیر نہیں کی ۔  وہ احمد بن حنبل کی زندگی کے بارے میں تحریر کرتے ہیں:

اس بات کو مدنظر رکھتےهوئے کہ احمد بن حنبل کو ان کے مخالفین نے جیل میں ڈلوایا، انہیں سزا دی گئی اور ان کی تکفیر کی گئی،لیکن جس وقت وہ قید سے آزاد ہوئے تووه  ان ہی لوگوں کے پیچھے نماز پڑھتے تھے اور انہیں دین سے خارج خیال نہیں کرتے تھے۔

بعد والی فصلوں میں آیات اور روایات سے استناد کرتے ہوئے ثابت کرتے ہیں کہ ہرگز کسی بھی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کی جا سکتی ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسلمانوں کو اس طرح کے کاموں سے شدت کے ساتھ منع کیا ہے۔  جبکہ وہابی آیات ،روایات اور سیرہ مسلمین کے بر خلاف مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں اور انہیں قتل و غارت کرتے ہیں۔

 

۶۔ وہابی، عصر حاضر کے خوارج

خوارج اور وہابیوں کے افکار و نظریات پر ایک نظر ڈالنے کے بعد انسان بخوبی ان کے درمیان پائی جانے والی بہت سی شباہت کو درک کر سکتا ہے۔ خوارج ،مسلمانوں کو کافر شمار کرتے تھے اور انہیں تہہ تیغ کرتے تھے؛ نہ صرف مردوں بلکہ بچوں اور عورتوں کو بھی قتل کرتے تھے اور خوارج کے ذریعہ قتل ہونے والوں میں یہود اور نصاری جیسے اصلی کفار بهت کم دکھائی دیتے  ہیں۔ انہوں نے اسلامی سر زمینوں کو دارالحرب اور دارالکفر کا نام دے دیا تھا اور وسیع پیمانے پر مسلمانوں کا قتل عام کرتے تھے۔ وہابی بھی تمام مسلمانوں کو کافر فرض کرتے ہیں اور صرف خود کو مسلمان اور موحد مانتے ہیں اور اسی بہانہ سےمسلمانوں کا خون بہاتے ہیں۔ انہوں نے بھی اسلامی ممالک کو دارالکفر خٰیال کر لیا ہے۔

وہابیوں اور خوارج میں یہ فرق ہے کہ خوارج اگر چہ مسلمانوں کا خون مباح شمار کرتے تھے، لیکن مسلمانوں کے قتل کے لئے کفر کا سہارا نہیں لیتے تھے؛ جبکہ وہابی، برطانوی اور امریکی عناصر کی مدد اور کفر کے ساتھ اتحاد کرکے مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں اور اس طرح مسلمانوں پر کفر اور  شرک کی تہمت لگاتے ہیں، کفار اور مسلمانوں کے اصلی دشمنوں کے ساتھ  میل جول میں ایک لمحہ بھی کوتاہی نہیں کرتے ہیں۔

خوارج، کلمات حق کے استعمال سے باطل مراد لیتے تھے؛ وہابی بھی آیات قرآن کے ظاہری معنی اور اس کی باطل تفسیر پر تکیہ کرتے ہوئے غلط راہ کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔

اسی طرح جیسا کہ ایمان و عمل کا ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہونا خوارج کے افکار کی بنیاد کو تشکیل دیتے تھے اور گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والا ان کی نگاہ میں دین سے خارج تھا، وہابیوں کی نظر میں بھی ایسے مسائل جن کا لازمہ شرک نہیں ہے، انہیں بھی شرک شمار کرتے ہیں اور اس کا انجام دینے والا ان کی نگاہ میں کافر ہے اور اس کا خون اورمال مباح قرار دیا جانے لگا۔

ان سب کے باوجود وہابی، قرآن کریم کی تلاوت کرنے میں پنج گانہ نمازوں پر تاکید کرتے ہیں اور مجموعی طور پر دینی احکام کو ظاہری طور پر انجام دینے کے بہت زیادہ پابند ہیں؛ یہاں تک کہ کبھی دوسرے مسلمانوں کی عبادت کو خاطر میں نہیں لاتے اور خود کو اس سلسلے میں برتر مانتے ہیں۔ یہ حالت خوارج میں بھی مکمل طور پر پائی جاتی تھی۔ وہ بھی ظواہر دین پر بہت زیادہ پابند تھے؛ ان کی پیشانیوں پر کثرت سجود سے گٹھے پڑے رہتے تھے، قرآن مجید کی تلاوت اچھی طرح سے کرتے تھے؛(ص ۳۵۲) اپنے زعم میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے تھے اور مسلمانوں کی عبادتوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھے تھے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بقول: "یخرج فیکم قوم تحقرون صلاتکم مع صلاتھم، و صیامکم مع صیامھم، و عملکم مع عملھم، یقرئون القرآن لا یجاوز حناجرھم یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیہ"۔

تمهارے درمیان ایک گروه  ظاہر ہوگا جو اپنی نمازوں سے تمہاری نمازوں کو، اپنے روزوں سے تمہارے روزوں کو، اپنے اعمال سے تمہارے اعمال کی تحقیر کرے گا؛ قرآن کی تلاوت کرے گا مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ سب دین سے خارج ہو جائیں گے، اسی طرح جیسے تیر کمان سے خارج ہو جاتا ہے۔

 

دوسرے حصہ کا نتیجہ

وہابی جن اہم لغزشوں کا شکار ہوئے ہیں ان میں سے ایک ایمان و کفر کی بحث ہے۔ عالم اسلام میں تنها جس گروہ نے مسلمانوں کی تکفیر کی ہے اور ان کے خون ، مال اور ناموس کو مباح قرار دیا ہے، وہ خوارج ہیں جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرمان کے مطابق اس تیر کی مانند ہیں جو کمان سے نکل چکا ہو،یه لوگ دین سے خارج ہو چکے ہیں۔ وہابیوں نے بھی خوارج کی طرح تمام مسلمانوں کی تکفیر کی ہے اور اپنی تاریخ کی طویل مدت میں مسلمانوں کے خون ، مال اور ناموس کے مباح ہونے کا فتوی دیا ہے۔

وہ ایمان کے معنی میں تحریف کرکے اسے زبان سے اقرار، قلب سے تصدیق اور عمل سے انجام دینا بتاتے هیں، یہ نظریہ اسلامی افکار و نظریات کے مخالف ہے۔ عالم اسلام اور اسلامی مذاہب کے غالب نظریات کی بنیاد پر ایمان، زبان سے اقرار اور قلب سے تصدیق کا نام ہے؛ اور عمل، ایمان کے درجات کو معین کرتا ہے۔ اس لحاظ سے ایمان بغیر عمل کے بیکار ہے اور عمل جس حد تک زیادہ اور اخلاص کے ساتھ ہوگا، اسی قدر اس کا درجہ ایمان زیادہ ہوگا۔

ایک دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ایمان کے متعلقات ہوتے ہیں جن کےفقدان کی صورت میں انسان شریعت اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ قرآنی آیات کی روشنی میں متعلقات ایمان یہ ہیں: خدا ، انبیاء کی رسالت، غیب اور قیامت، ان میں سے کسی کے بھی فقدان کی صورت میں انسان دین کے دائرے سے خارج ہو جاتا ہے۔ ان کے باوجود وہابی مسلمانوں کو جائز مسائل پر عقیدہ رکھنے کی وجه سےکافر قرار دیتے ہیں جیسے توسل، طلب شفاعت اور زیارت۔  ان کے خون اور مال کو مباح شمار کرتے ہیں۔ جبکہ بہت سی آیات اور روایات میں مسلمان،  اہل قبلہ اور ان لوگوں کی تکفیرکرنے سے منع کیا گیا هےجو اپنی زبان پر کلمہ شہادتین جاری کرتے ہیں۔

مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے: وہابی مسلمانوں کی تکفیر کے سلسلے میں گویا خوارج سے بھی آگے نکل چکے ہیں؛ کیونکہ خوارج گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والوں کی تکفیر کرتے تھے، لیکن وہابی ان مسلمانوں کی تکفیر کرتے اور ان کے خون اور مال کو مباح قرار دیتے ہیں جو اپنے دینی اور شرعی فریضہ پر عمل کرتے ہیں، جیسے زیارت، اولیائے  الہی سے توسل اور ان اسلامی مراسم کا منعقد کرنا، جنهیں شریعت کی تائید حاصل ہے۔

نظریه ارسال