سلفیت معاصر کی چھے باتیں
تاریخ انتشار : 1/7/2017
دوباره دیکهنا : 392
نشر هونے کا سال : 0
جلدوں کی تعداد : 0
صفحات : 0
کتاب حاضر میں معاصر سلفی گروہ سے متعلق چند موضوعات پر تحقیق پیش کی گئی ہے۔ سلفی تحریک قدیم الایام سےعالم اسلام میں موجود تھی اور ایک خاص نظریہ کے تحت، غالبا دین میں ظاہری رجحان رکھنے والوں نے ہمیشہ دیگر اسلامی مسالک پر حملہ یا مذمت کرتے ہوئے ان کو ایک طرح سے اذیت پہچانے والے افراطی گروہ کے طور پر وجود بخشا ہے۔ یہ ظاہر کی طرف رجحان رکھنے والا خشک اور سخت رویہ صدر اسلام سے موجود تھا، جس کی بنیاد کسی حد تک بدوی اور شدت پسند جنگلی سماج کی ثقافت میں پائی جاتی تھی۔اس نظریه کے برجسته امام اور نمائنده احمد بن حنبل ہیں اور ان کےبعد آنے والی صدیوں میں بھی یہ طرز تفکر پروان چڑھتا رہا ہے، چوتھی صدی هجری میں اس تحریک کا علمبردار "بربهاری" کو بتایا جاتا ہے۔ یه لوگ اپنے معاشرہ سے پریشان تھے اور وہ "بربهاری" کو سنت اسلامی سے دور، بدعت گزار اور منحرف هونےسے متهم کرتے تھے اور سلف صالح کی پیروی کےلازم ہونے کی تاکید کرتے تھے، جبکہ وہ سلف صالح کی صحیح تشریح نہیں کر پاتے تھے۔ یہاں تک کہ ساتویں صدی هجری میں ایک شخص پیدا ہوا جسے سلفیت کا ستون شمار کیا جانے لگا اور وہ کوئی اور نہیں ابن تیمیہ ہے۔ اس نے سلفیت کے بہت سے عقائد کے نظریات بیان کئے اور ان کو وسعت عطا کی اور دوسرے مذاہب خاص طور پرشیعوں پر حملہ کیا اور سلف صالح کی پیروی کی ضرورت پر تاکید کی۔ اس نے سلف صالح کی تعریف و تشریح بیان کی ہے اوروه سلف کو صحابہ ، تابعین صحابہ اور تبع تابعین سمجھتا ہے۔ اس کے عقیدہ کے مطابق امت اسلامی کی ان پہلی تین نسلوں نے عصر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے قربت اور نزدیکی کی وجہ سے روح وحی اور سنت نبوی (ص) کو لمس کیا ہے اور اس کی خوشبو کو محسوس کیا ہے۔ اس لحاظ سے دین کو درک کرنے میں ان کے علم وفهم کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ ابن تیمیه ،ہوشیار، زیاده سفر کرنے والا، نہایت متعصب، شیعہ مخالف اور کثیر التالیف شخص ہے۔ ابن تیمیہ کے بعد اس کے شاگرد ابن قیم جوزی نے ان مطالب پر تاکید کی ہےاور اس کے نظریات کو آگے بڑھایا ہے۔ یہ ادبیات کم و بیش اہل سنت کی فضا میں اور خاص طور پر حجاز میں موجود تھے، یہاں تک کہ بارہویں صدی هجری میں اس میں سرعت پیدا ہو گئی۔ اس دوران حجاز میں محمد بن عبد الوہاب نے ان ادبیات کو آل سعود کی تلوار کی مدد سے پورے حجاز میں پھیلا دیا۔ مصر بھی گذشتہ صدی میں مختلف حالات اور واقعات سے دوچار رہا۔ بیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں اخوان المسلمین کی تشکیل اور پھر معاشرہ کے دیندار افراد کی طرف سے اس کے ناکارہ ہونے کا احساس کرتے هوئے طبیعی طور پر انیس سوساٹھ اور ستر عیسوی میں مخاطبین کو سید قطب اور ان کی کتابوں کی طرف متوجہ کیا گیا۔ اس عرصہ میں ان کی سب سے زیادہ تاثیر رکھنے والی کتاب" معالم فی الطریق" تھی۔ تکفیریوں اور مسلح افراد کی مصر میں اگلی تحریک کافی حد تک سید قطب کی اس کتاب سے متاثر ہوئی ہے۔ اس دوران انیس ستر کے اواخر میں" جہیمان العتیبی "اور اس کی اس جماعت نے سن ۱۴۰۰ ھجری کے پہلے دن مسجد الحرام پر قبضہ کر لیا جو سعودی عرب کے سماج کے حالات سے خوش نہیں تھےاور انہوں نے ایک ایسی فردکے ہاتھ پر بیعت کرلی جسے مہدی موعود کا لقب دیا گیا تھا تاکه احادیث فتن اور آخر الزمان کو متحقق کر سکے۔ یہ تحریک دو ہفتہ مقاومت کے بعدبیرونی ممالک کی مدد اورخاص طور پر فرانس کی افواج کی دخالت کے بعد ناکام ہو گئی۔ لیکن داستان یہیں پر ختم نہیں ہوتی اور سماج کے دروازہ کو جدید ثقافت کی طرف کھلنے سے ناراض مذہبی طبقہ کوملک کی داخلی مناسبات پر تاثیر گذاری کی قدرت حاصل ہو جاتی ہے۔ آخرکارانیس سو اسی کے شروع میں افغانستان پر متحدہ روس کا قبضہ ہو جاتا ہے اور سعودی عرب ، مصر اور دوسرے عربی ممالک کو یہ سنہرا موقع مل جاتا ہے کہ وہ مذہبی اذیت دینے والی جماعت کے افراد کے شر نجات حاصل کر لیں۔ اس لئے انہیں جہاد کے عنوان سے متحدہ روس کے خلاف لڑنے کے لئے افغانستان روانہ کر دیتے ہیں۔ البتہ اس کے پشت پردہ اور دوسرے اہداف بھی تھے جیسے ان ممالک کی قدرت کے حدود میں اضافہ اور ان میں اثر و رسوخ پید اکرناوغیره۔ جنگ سرد کے ایام میں امریکہ اور مغربی ممالک بھی متحدہ روس سے مقابلہ میں تعاون کرنے کے لئے ایک فریق کی حیثیت رکھتے تھے۔ عرب سے ہجرت کرنے والی فوجوں نے افغانستان میں ایک افغان عرب فوج کی تشکیل دی ۔ ان لوگوں نے بر صغیر کے سلفیوں کے ساتھ مل کر چند گروهوں کوجنم دیا جن میں سر فہرست مخلوط طالبان هیں اور پھر اس اختلاط سے القاعدہ اور دیگر افراطی گروہ وجود میں آئے۔ افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملہ کے بعد القاعدہ کے بعض فعال افراد نےعراق کا رخ کرلیا اور وہاں امریکہ کے بعد پیش آنے والا حالات میں ابو مصعب زرقاوی کے ذریعہ تخم گذاری کی جس میں چند سال کے بعد ابو بکر بغدادی نے اسلامی خلافت کے اعلان کے ساتھ خود کو خلیفہ کے طور پر متعارف کرا دیا۔ اس کتاب میں جس کا نام "پیشروی" ہے چھے گفتار شامل ہیں اور ان میں سےہر گفتار ایک فصل پر مشتمل ہے۔ وہ چھے فصول اس طرح ہیں: پہلی فصل : تکفیریوں کے مقاصد کے نفسیاتی اور ثقافتی علل و اسباب۔ دوسری فصل: کیا مغرب کے مسلمان ہونے میں ہمارا فائدہ ہے؟۔ تیسری فصل: سید قطب کے بعد آنے والی اسلامی تحریکوں پر ان کی تاثیر۔ چوتھی فصل: آخری قطب۔ پانچویں فصل: مسجد الحرام پر قبضہ کے اغراض و مقاصد پر تجدید نظر۔ چھٹی فصل: مہدی ہونے کا چھوٹا دعوی اور سن ۱۹۷۹میں مسجد الحرام پر قبضہ۔