"مسلمین اور تمام انسانیت کو تکفیری تحریکوں سے لاحق خطرات" کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی دوسری کانفرنس کا اختتامی بیان
تاریخ انتشار : 8/16/2016

معظم لہ کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اعلان :

"مسلمین اور تمام انسانیت کو تکفیری تحریکوں سے لاحق خطرات" کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی دوسری کانفرنس کا اختتامی بیان

٢٨ جنوری ٢٠١٦ کو مسلمین اور تمام انسانیت کو تکفیری تحریکوں سے لاحق خطرات کے سلسلہ میں دوسری کانفرس منعقد کی گئی اور اس میں بہت سے شیعہ اور سنی علماء کو دعوت دی گئی اور شدت پسند لوگوں کی مذمت کرتے ہوئے کچھ اصول و قوانین معین کئے گئے.

و لا تقولوا لمن القی الیکم السلم لست مومنا تبتغون عرض الحیوه الدنیا (نساء آیه 94)

الحمد لله رب العالمین و صلی الله علی سیدنا محمد و علی آله الطاهرین و صحبه المنتجبین و من تبعهم باحسان الی یوم الدین

موجودہ حالات میں اسلام اور مسلمان تلخ ترین دور سے گزر رہے ہیں ۔ شدت پسند اورافراطی لوگوں کی تقریریں، فتاوی اور تفرقہ ڈالنے والے اقدامات ، قتل وغارت کا سبب ، شدت پسندی، مذہبی جنگ ، اصلی اور حقیقی اسلام سے مسلمانوں کے انحراف کا سبب قرار پارہے ہیں ۔ ایسے حالاتا میں علمائے اسلام کے لئے ضروری ہے کہ اس گروہ کی نفی اور اسلام اصیل کا تعارف کراتے ہوئے اپنی تاریخی ذمہ داری کو پوری کریں ۔

اسی بنیاد پر٢٨ جنوری ٢٠١٦ کو مسلمین اور تمام انسانیت کو تکفیری تحریکوں سے لاحق خطرات کے سلسلہ میں دوسری کانفرس منعقد کی گئی اور اس میں بہت سے شیعہ اور سنی علماء کو دعوت دی گئی اور شدت پسند لوگوں کی مذمت کرتے ہوئے کچھ اصول و قوانین معین کئے گئے :

١۔ اسلام، دین رحمت و رافت ہے اور قتل وغارت سے پاک وپاکیزہ ہے ۔ مسلمانوں کے لئے نمونہ عمل ، رسول خدا ہیں جو انک لعلی خلق عظیم کے لقب سے ملقب ہیں ۔اسی وجہ سے تمام مسلمان اپنی مسالمت آمیز زندگی میں دوسرے تمام مذاہب کے لوگوں کے ساتھ ان کی زندگی کو سرنامہ عمل قرار دیں اور ہر طرح کی برائیوں سے دوری اختیار کریں اور ہر اس کام سے پرہیز کریں جو تمام ادیان و مذاہب کے ماننے والوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتے ہوں ۔

٢۔  پیغمبر اکرم (ص) قطعی سنت اور عملی سیرت کی بنیاد پر جو بھی کلمہ شہادتین جاری کرے وہ مسلمان ہے اور اس کا خون ، مال ، ناموس اور عزت و آبرو محترم اور محفوظ ہے اور اس سلسلہ میں ذاتی استنباط ، نص کے مقابلہ میں اجتہاد ہے ۔

٣ ۔  علمائے اسلام کے اجماع کے مطابق ، کفر اس وقت ثابت ہوتا ہے جب ضروریات دین کا واضح طور پر انکار کیا جائے ،جبکہ جہان اسلام میں موجودہ تمام اختلافات کا موضوع ایسا نہیں ہے جس کا شمار ضروریات دین میں ہوتا ہو ، اسی بنیاد پر کسی بھی شخص یا گروہ کو کسی بھی بہانہ سے دوسروں کو نقصان پہنچانے کا کوئی حق نہیں ہے ۔

٤ ۔  مختلف اسلامی مماک میں تکفیری گروہوں کے جرائم کی مذمت کرتے ہوئے بعض لوگوں کے ٹی وی چینل اور انٹر نٹ پر تفرقہ آمیز اقدام کرنے کی صورت میں تمام فرقوں اور اسلامی مذاہب کے علماء سے درخواست ہے کہ وہ سیاسی اور مذہبی ملاحظات کو مدنظر رکھتے ہوئے شدت پسندوں سے تبری حاصل کریں اور اپنے فتوئوں اور بیانات کے ذریعہ مسلمانوں کو مذہبی جنگ میں داخل ہونے سے منع کریں ۔

٥ ۔  چونکہ اسلام کے دشمن اس شدت پسندی کے ذریعہ اپنے استکباری اہداف تک پہنچنے اور اسلامی آثار پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسلام سے ڈرانے کا پروگرام پیش کرکے اسلام کی ترقی کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں ، لہذا اس کانفرنس میں موجود تمام علماء صراحت کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ ہم تمام افراطی اور شدت پسندی کی سازشوں سے دور ہیں اوراس گروہ کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

٦ ۔  اس کانفرنس میں موجود ہم تمام علماء ، علاقہ کے سیاست مداروں سے درخواست کرتے ہیں کہ ایسے کاموں سے پرہیز کریں جو شدت اور تکفیر کے پھیلنے کاسبب قرار پائے اور یہ مذہبی جنگ کو بھڑکانے میں ایک عملی اقدام ہے، ایسے کاموں سے پرہیز کریں اور علاقہ کے تمام مسائل میں مذاکرات بہترین راہ حل ہے جس کو قرآن کریم نے بھی الصلح خیر کے عنوان سے بیان کیا ہے ۔

٧ ۔  امت اسلامی کی کامیابی اتحاد ، اسلامی تمدن کی برقراری اورحقیقی تہذیب کی نشر و اشاعت میں چھپی ہوئی ہے اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور مدد کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی ، لہذا اس سلسلہ میں ہمیں اپنی پوری طاقت کے ساتھ کلمة اللہ کی بلندی اور اتحاد کو قائم کرنے کی کوشش کریں اور ایسی باتوں اور اعمال سے پرہیز کریں جو ہمیں ہمارے اصلی ہدف سے دور کرتے ہوں ۔

٨ ۔  اس بات کومدنظر رکھتے ہوئے کہ آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے مسلمین اور تمام انسانیت کو تکفیری تحریکوں سے لاحق خطرات اور ان کے حل سے متعلق دفتر قائم کرکے پوری دنیا کے تمام علمائے اسلام کے سامنے اتحاد کا ہاتھ بڑھایا ہے اور ہم تمام علماء سے درخواست کرتے ہیں کہ اس عظیم راہ میں ہماری مدد کریں ۔ یہ اتحادی دفتر اس بات کو اپنا وظیفہ سمجھتا ہے کہ جو بھی اتحاد کی راہ اور دنیائے اسلام کی بلندی کے لئے کوشش کرتا ہے ، ان کا ساتھ دے اور تکفیر وشدت کے خلاف تمام مسلمان جوانوں کو بہت ہی محبت اور شفقت کے ساتھ نصیحت کرتا ہے کہ ایسے کاموں سے پرہیز کریں جو اسلام اور مسلمین کے نقصان کا باعث قرار پا رہے ہوں ۔

ہم امید کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیک سیرت تمام مسلمانوں کے لئے نمونہ عمل قرار پائے گی ۔

نظریه ارسال