تکفیر ، مستقبل میں درپیش مشکلات اور علمائے اسلام کی ذمہ داریاں
تاریخ انتشار : 1/7/2017

 

دهشت گرد تکفیری تنظیموں کا سد باب کرنے والے بین الاقوامی اداره کے مرکزی دفتر کی رپورٹ کے مطابق بروز جمعرات ۲۱ مرداد ۹۵ (شمسی) ایران کے مغربی آذربائیجان ضلع کے مہاباد شہر میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی، جس کا عنوان تها : تکفیر ، مستقبل میں درپیش مشکلات اور علمائے اسلام کی ذمہ داریاں.

مرجع عالی قدر حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی (مد ظلہ العالی) کا پیغام

 

متن پیغام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ علی سیدنا محمد و آلہ الطاھرین ولا حول و لا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔

سب سے پہلے ضروری سمجھتا ہوں کہ اس نورانی اجلاس کی تشکیل پر آپ تمام حضرات کی خدمت میں مبارک باد پیش کروں جو اسلامی مسائل کے مھم ترین مسئلہ کے لئے منعقد ہو رہا ہے نیز آپ سب علمائے اسلام کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جو یهاں پر عالم اسلام کی مشکلات کو حل کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔

یہ ایام امام علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) کی ولادت سے منسوب ہیں،لهذا اس مناسبت سے ان تمام حضرات کی خدمت میں دل کی گہرائیوں سے ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں جو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے خاندان سے محبت رکھتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ آج عالم اسلام ایک ایسی اہم مشکل سے دوچار ہے جو پہلے کبھی پیش نہیں آئی بلکہ ایک لحاظ سے عالم بشریت اس مشکل میں گرفتار ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات سے بے خبر کچھ گروه وجود میں آگئے ہیں .اسلامی ممالک میں اختلاف اور داخلی جنگ ایجاد کرنے کے لئے یقینا دشمن کی طرف سے ان کی مدد کی جا رہی ہے۔ان کے خیالات یه هیں بلکه وه اپنے خیالات کا برمله اظهار کرتے کہ فقط وہ  مسلمان ہیں باقی سب سنی ہوں یا شیعہ کافر ہیں، یهاں تک که غیر مسلم کی جان، مال اورعزت و آبروکو مباح سمجھتے ہیں اور محض دعوی نہیں بلکہ عملی طور پر ایسا کرکے دکھا چکے ہیں ، آپ سب علمائے اسلام  جانتے ہیں کہ ان لوگوں نے کیسے بھیانک جرائم کئےہیں اور کس قدر اسلام کو نقصان پہچایا ہے؛ اسلام  جو صلح و صفا کا حامی ہے۔ یهاں تک کہ ان غیر مسلم برادری کے ساتھ جو اسلام کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے ، پر امن زندگی بسرکرنے کا درس دیتا ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد هے: "لا ینھاکم اللہ عن الدین لم یقاتلو کم فی الدین و لم یخرجوکم  من دیارکم ان تبروھم و تقسطوا الیھم ان اللہ یحب المقسطین"۔

جبکه یہ شدت پسند لوگ خود کو مسلمان اور باقی سب کو کافر کہتے ہیں اور بھیانک جرائم کرتے ہیں۔ اس مقام پر علمای اسلام کی اهم ذمہ داری ہے۔ سب سے پہلے اسلام  کی آبرو کی حفاظت ضروری هے تا کہ یہ پیغام دیا جاسکے کہ اسلام دین رحمت ہے، شدت پسندی، خون ریزی، آدم کشی، قتل و غارت کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ مسلمانوں کی جان کی حفاظت ضروری هے۔ ہم ہاتھ پر ہاتھ  رکھ کر خاموش نہیں بیٹھ سکتے ہیں۔ اس طرح کے خوفناک مناظر کو دیکھ کر بغیر کسی استثناء کے ہم سب کی ذم داری بنتی ہے کہ اولا ہم غیر مسلمانوں کے لئے یہ ثابت کریں کہ شدت پسند گروه کے کرتوت کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یه سب اسلام کے بر خلاف ہے اور قطعی طور پر اسلام کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ثانیا مسلم جوانوں کے لئے بھی یہ بات ثابت کریں تا کہ وہ ان کی طرف مائل نہ ہوں کیونکه اگر انہیں یہ بات معلوم ہو جائے کہ  یہ چیزیں اسلامی تعلیمات کا حصہ نہیں ہیں تو وہ ان کی طرف مائل نہیں ہوں گے اور غیر مسلم بھی اسلام سے نفرت نہیں کریں گے اور انہیں اسلامی تعلیمات کا حصہ قرار نہیں دیں گے۔

یه ایک اچهی خبر هے کہ شیخ الازہر نے تمام علمائے اسلام کو دعوت دی اور سب نے بالاتفاق اس بات پر دستخط کئے کہ کسی بھی مسلمان کا خون نہیں بہنا چاہئے۔ جو شخص شہادتین جاری کرتا ہے اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہے وہ مسلمان ہے۔ جو بھی ضروریات اسلام  کو قبول کرتا ہے وہ مسلمان ہے البته ممکن ہے کہ فقهی مسائل میں مذاہب کے درمیان فرق پایا جاتا ہو تو یہ بات اس کے اسلام سے خارج ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی ۔ یہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اقوال کے صریحا خلاف ہے۔

گزشته دنوں سننے میں آیا تها کہ پاپ نے بھی اس سلسلہ میں کوئی بیان صادر کیا تها کہ ان کے ان اعمال کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ لوگ ایک ضعیف منحرف اقلیت ہیں جنہیں بعض لوگوں کی حمایت حاصل ہے اور عیسائیوں  میں بھی ان کی طرح ایک اقلیت پائی جاتی ہے، ایسے لوگوں کو معیار نہیں قرار دیا جا سکتا، اسلام دین رحمت ہے اور وہ خود اس بات کو مانتے ہیں۔

بہرحال ہم نے حوزہ علمیہ قم اور مرجعیت کی حیثیت سے گزشتہ برسوں میں دو بار تکفیر سے مربوط مسائل کے سلسلے میں کانفرنس منعقد کی کہ  یہ لوگ عالم اسلام سے بیگانہ ہیں۔ دنیا بھر کے اسی (۸۰) ممالک کے علماء اورمفتیوں کو ہم نے دعوت دی وہ سب آئے اور سب نے اس مسئلہ کا اعتراف بهی کیا۔

آپ حضرات بھی خاص طور پر ملک (ایران) کے مغربی علاقوں میں جہاں ممکن ہے بعض جہات سے دشمن کی سرگرمیاں عمل میں آئیں، بیدار اور ہوشیار رہیں۔

البتہ امنیتی ، سیاسی اور فوجی اداروں کے ذمہ داران اپنا کام انجام دے رہے ہیں، ہمیں علمائے اسلام کے عنوان سے اپنا کام انجام دینا چایئے اور مسائل کو فاش کرنا چاہئے اور سب کو چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلمان آگاہ کرنا چاہئے کہ یہ اسلامی تعلیمات نہیں ہیں اور آپ مطمئن رہیں کہ ہمارا یہ عمل موثر ہوگا اور اگر ہم اس کام میں کوتاہی کریں گے (میں اپنے لئے کہہ رہا ہوں)  تو روز قیامت ہمیں جواب دینا پڑے گا اور اگر ہم قتل و غارت گری کو روک سکتے ہیں لیکن نہیں روکتے تو ہم بھی ان کے جرم میں شریک ہیں۔

الحمد للہ آپ سب بڑی شخصیتیں ہیں جو اپنے علاقوں میں مورد قبول ہیں، آپ سب ان مسائل کو واضح کرکے بیان کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ متحد هو کر قدم بڑھائیں۔ ہم حوزہ علمیہ اور مرجعیت کے امور میں آپ سب کی خدمت میں حاضر ہیں۔

ان شاء اللہ یہ مشکل ملک کے مغربی، اس کے بعد مشرقی خطے میں اور اس کے بعد پورے عالم اسلام بلکہ تمام عالم بشریت کے لئے حل ہو جائے گی۔ جن لوگوں نے اس کلچر و ثقافت کے فروغ میں مدد کی تھی تا کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف ایجاد کریں، خود بھی اس میں گرفتار ہو چکے ہیں اور ان کی سمجھ میں آ چکا ہے کہ وہ غلط راستے پر تھے ، ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل قریب میں ان افکار کی جڑیں خشک ہو جائیں گی اور فتنوں کی یہ آگ خاموش ہو جائے گی۔

ایک بار پھر آپ تمام حضرات کا شکریه ادا کرتا ہوں اور اس مقدس مقصد تک رسائی حاصل کرنے کی راہ میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

والسلام  علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

 

مولوی قادر سھرابی امام جمعہ مھاباد

امام جمعہ مھاباد مولوی قادر سھرابی نے اپنے بیان میں مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس انتهاء پسند تکفیری تنظیموں کی مشکلات کو حل کرنے میں کامیاب هوگی ۔ انہوں نے کہا کہ علماء، انبیاء کے وارث ہیں اور ان کی ذمہ داری ہے کہ تکفیری گروہوں اور تنظیوں کے بارے میں لوگوں کو بتائیں اور یہ ان کا عظیم فریضه ہے۔

مھاباد کے امام جمعہ نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ داعش اور اس جیسے دوسرے گروہ اور تنظیموں کا یہاں اس جگہ پر کوئی طرفدار نہیں ہونا چاہئے۔ اس طرح کی موذی حرکتیں مسلمانوں کے درمیان تفرقہ و بے اعتمادی کا باعث بن سکتی ہیں جس کا فائدہ عالمی استکبار کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہوگا۔

مولوی قادر سھرابی نے تکفیری گروہوں کے عقائد کو فاسد بتاتے ہوئے بیان کیا کہ ان گروہوں نے شام کے لوگوں کے دفاع کے نام پر سعودی عرب اور مغربی ممالک کے پیسوں کی حمایت سے  ملک شام کو قتلگاه بنا دیا ہے۔

آپ نے مزید کہا: ہم علماء اور دیندار لوگوں کی اہم ذمہ داری ہے کہ اس بیماری کا علاج کریں ، ہمیں خاموش بیٹھ کر ان تکفیری گروہوں کی طرف اپنے جوانوں کے مجذوب ہونے کا تماشا نہیں دیکھنا چاہئے۔ ہمیں اپنے مقدسات کے لئے ان سے مقابله کرنا چاهئے کیونکہ تکفیر، وہابیت اور سلفیت ہمارے درمیان ہے اور یہی اس شدت پسندی اور فساد کی جڑ ہے۔

مھاباد کے امام جمعہ نے مزید کہا: جس وقت تکفیر اور وہابی یہاں نہیں تھے ہم سب آرام سے تھے۔ ان لوگوں نے ہمارے شیوخ الاسلام کو قتل کیا لیکن کسی کو ان سے قصاص لینے کا حق نهی تها ،انهی لوگوں نے مسلمانوں کے امن و سکون کو چهین لیا ہے۔

 

حضرت حجۃ الاسلام والمسلمین سید مھدی قریشی، نمائندہ ولی فقیہ، مغربی آذربائیجان

آپ نے اپنے بیان میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی راہ پر گامزن رهنے کیلئے توفیق الهی کے شامل حال هونے کی دعاء کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کی ان آیات " انما المومنون اخوۃ فاصلحوا بین اخویکم واتقوا اللہ لعلکم ترحمون" و "محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم"۔ کے مطابق ہم سب کو اتحاد کی دعوت دی گئی ہےاور اسلام میں ہم سب کو ایک دوسرے کا بھائی که کر خطاب کیا گیا ہے ، خداوند عالم نے ان لوگوں کو عذاب سے ڈرایا ہے جو تفرقہ ایجاد کرتے ہیں اور الگ الگ فرقوں میں تقسیم هوجاتں ہیں ۔ اسی طرح احادیث اور سنت نبوی (ص) میں بهی اتحاد اور اخوت کے موضوع کو بیان کیا گیا ہے۔

مغربی آذربائیجان میں رہبر ایران کے نمائندہ نے اپنی تقریر میں کہا: تمام مسلمانوں کو دشمن سے مقابلہ میں ایک ہو جانا چاہئے اور جس نے بھی کسی مسلمان کی توہین کی، روایات کے مطابق اللہ اور فرشتوں کی لعنت کا مستحق قرار پائے گا۔

آپ نے مزید فرمایا: کسی مسلمان کی تکفیر کے سلسلے میں نہایت سخت شرطیں بیان ہوئی ہیں، مسلمان کا خون اور اس کا مال محترم ہے اور اس کے بعد آپ نے پیغمبر اکرم (ص) کی حدیث ذکر کی جس میں ارشاد ہوتا ہے: کفار کے ساتھ جنگ کرو یہاں تک کہ وہ کلمہ شہادتین جاری کریں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے لئے شہادتین پڑھنا کافی ہے جبکه دهشت گرد تکفیری گروہ ایک چھوٹے سی خطا کرنے پر هی مسلمان کو کافر قرار دے کر اسے قتل کر دیتے ہیں۔

مغربی آذربائیجان کے امام جمعہ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے تاریخ میں موجود کچھ  شدت پسندی کی مثالیں پیش کرتے هوئے ان کے مقابلہ میں پیغمبر اکرم (ص) کے شدید رد عمل کے نمونوں کا تذکرہ کیا . آپ نے فرمایا :  قول پیغمبر (ص) کے مطابق جو انسان شہادتین جاری کرتا ہے حتی اگر گمان ہو کہ اس نے ڈر کے مارے کلمہ پڑھا ہے تب بھی اسے مسلمان شمار کیا جائے گا۔

آپ نے آخر میں ایمان اور کفر کے متعلق شیعہ اور اہل سنت کی  روایات اور قرآن کریم کی آیات کا ذکر کیا اور بیان کیا کہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے وضاحت کریں تا کہ عالم اسلام کے اس بڑے فتنہ کا سد باب ہو اور اسلامی معاشرہ میں اتحاد قائم ہو سکے تا کہ غیر مسلمان بھی اسلامی محبت و شفقت کا مشاہدہ کر سکیں۔

 

شدت پسند تکفیری تنظیموں سے مقابلہ کے عالمی اداره کے مرکزی دفتر کے سرپرست حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حکیم الہی

شدت پسند تکفیری تنظیموں سے مقابلہ کے عالمی اداره کے مرکزی دفتر کے سرپرست حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حکیم الہی نے "اسلام ہراسی" بڑھانے میں تکفیری تنظیموں کے کردار کے موضوع پر ورشنی ڈالی۔

آپ نے ابتداء میں مغربی آذربائیجان اور شہر مھاباد کے علماء کی خدمت میں حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی کا سلام پہچایا اور کانفرنس کے میزبانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بیان کیا: تکفیر، آج کی دنیا کا سب سے دردناک فتنہ ہے جسے عالم اسلام میں ایک کینسر کے نام سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ، جس میں تکفیری گروہ دنیا بھر میں بے گناہ افراد کے خلاف خوفناک جرائم انجام دے رہے ہیں ، شیعہ ، سنی، عورتیں، بچے بوڑھے بلکہ غیر مسلم لوگوں کو بهی قتل کر رہے ہیں۔

آپ نے اس بیان کے ساتھ کہ دنیا بهر میں انتهاء پسند تکفیری گروہوں کے اغراض و مقاصد امریکہ، انگلینڈ اور مغربی ممالک کے بند کمروں میں طے ہوتے هیں، فرمایا: اسلام ہراسی کی تحریک تاریخ اسلام میں شروع سے موجود رہی ہے۔ مغربی و اسلامی تمدن کے تکامل کا سلسلہ ہمیشہ صلح و پرامن رہا ہے لیکن اسلامی تمدن کے پهیلنے سے ہمیشہ اور ہر زمانہ میں خوف رہا ہے۔ آپ نے تاکید کی کہ تکفیر کا فتوی مغربی ممالک کے فکری کمره سے صادر ہوتا ہے البتہ ان فتووں کے ترجمان بعض ایسے علماء اور دانشور ہیں جنہیں اس موضوع کی اطلاع بھی نہیں ہے۔

ڈاکٹر حکیم الہی نے کہا: صدر اسلام میں مسلمانوں نے بہت سے علاقے فتح کئے لہذا مغربی دنیا اسلام کے توسعہ اور اسلامی ثقافت و اقدار کے غلبہ سے پریشان ہے چونکہ اسلامی تمدن اور مغربی تهذیب وثقافت میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسلام نے مغربی دنیا میں تیزی سے رشد کیا اور یوروپ میں مسلمانوں کی آبادی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر حال حاضر میں ڈنمارک میں دو لاکھ سے زیادہ ، فرانس میں تقریبا چار لاکھ اور انگلینڈ میں بیس لاکھ سے زیادہ مسلمان ہیں ، ان ممالک میں مسلمانوں کی  یہ بڑھتی آبادی هی مغربی دنیا کے خوف کا سبب ہے۔

عالمی اداره کے سرپرست کے بیان کےمطابق مغربی دنیا میں اسلامی تمدن کے روک تھام کے لئے اسلام  دشمن طاقتوں نے دو طریقه کاراختیار کئے ہیں:

ایک۔ باہر سے مقابلہ کا طریقه کار.

دو۔ اندر سے مقابلہ کا طریقه کار.

اور ان دونوں طریقوں میں درج ذیل حکمت عملی سے مدد حاصل کر رہے ہیں:

۱۔ اسلامی ممالک کو کمزور کرنا جیسے مصر میں جہاں قوی و مقتدرمسلح افواج تھیں، فوج کو کمزور کرنے کے پلان کو پایہ تکمیل تک پہچایا اور اس وقت اسی حکمت عملی کو ترکی کے بارے میں اپنایا جا رہا ہے۔

۲۔ اسلامی ممالک کے سرمایہ اور ثروت کی چوری

۳۔ اسلامی ممالک میں حکومت بنانا، مثال کے طور پر فقط عراق میں ۱۲۰۰ سو بلین سے زیادہ سرمایہ خرچ کیا گیا تاکہ وہاں حکومت بنا سکیں اور اپنے مہروں کو حکومت میں جگہ دلا سکیں۔

۴۔ اسلام کے رحمانی چہرہ کے خد و خال اور اسلامی تمدن و ثقافت کو خود مسلمانوں کے ذریعہ بگاڑنا اور خود مسلمانوں کے ذریعہ اسلام سے نفرت پھیلانا۔

یہ ہیں مغربی دنیا میں اسلام ہراسی کے بعض نمونے ہیں، اس کے باوجود ، اسلام کی طرف جذب ہونے کی شرح آٹھ فیصد سے بڑھ کرحال حاضر میں اڑتالیس فیصد پہنچ چکی ہے۔

پھر بھی  بیرونی طریقه کار کو اپناتے هوئے اسلام کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کیا جا رها هے،شدت پسندتکفیریوں کے ذریعہ انسانی قتل و غارت،  انہیں زندہ جلانا اور ان کے ذریعہ قتل کئے جانے والوں کی تعددا کو بڑابنا کر پیش کرنا، ان گروہوں کی طرف سے دئے جانے والے وحشت ناک فتووں کی بڑے پیمانے پر نشر واشاعت کرنا اور اس کے ذریعہ رعب و وحشت کا ماحول  ایجاد کرنا۔

آپ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: گزشتہ چند برس میں مغربی ممالک میں سب سے زیادہ بکنے والی کتابیں اسلام ہراسی سے متعلق ہیں کہ جن میں ۷۶ فیصد مسلمانوں کو شدت پسند کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔

آپ نے آخر میں وضاحت کی کہ اس عرصہ میں انگلینڈ و امریکہ کے جاسوسی اداروں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، علما کو چاہئے کہ وہ اپنا تبلیغی کردار ادا کریں اور ان کی حقیقت کو لوگوں کے لئے آشکار کریں۔

 

 مغربی آذربائیجان ضلع کے سیاسی و امنیتی نائب مشیر جناب آقای دکتر رادفر

مغربی آذربائیجان ضلع کے سیاسی و امنیتی نائب مشیر جناب آقای دکتر رادفر نے اپنی تقریر میں مخاطبین کو گورنر کا سلام پهنچایا اور تکفیریوں سے مقابلہ میں شھید ہونے والے شھداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، "تکفیر؛ مستقبل میں درپیش مشکلات اور علمائےاسلام کی ذمہ داریوں" سےمتعلق کانفرنس کے دوران، خطے میں تکفیری گروہوں کی حالت کے موضوع پر روشنی ڈالی۔ آپ نے بیان کیا کہ دنیا میں اسلام کی پیدائش اور لوگوں کا اس کی طرف جذب ہونا، مغربی دنیا کے لئے ہمیشہ سے خطرے کی گھنٹی رہا ہے اور ان کے اپنے اعترافات کی بنیاد پر اسی چیز نے ان کے منافع کو کمزور کیا ہے۔

آپ نے مزید کہا: اسلام کی طرف جذب ہونے والوں کی تعداد میں کمی آنے سے متعلق ایک اہم موضوع " اسلام ہراسی" ہے جس کے لئے مغربی ممالک کے ذمه داران اپنے اس نحس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے سعی و کوشش کرنے پرمجبور تھے ۔

مغربی آذربائیجان کے سیاسی اور امنیتی نائب مشیر نے کہا: ان لوگوں نے دنیا والوں تک اسلام ہراسی کے اثر و رسوخ کو پہونچانے کے لئے مجرمانه ہتھکنڈے اپنائے اور ایسے افراد کو اپنی فوج کے طور پر استعمال کیا جو بظاہر مسلمان تھے، دنیا کے ہر گوشے میں خاص طور پر اسلامی ممالک میں تکفیری حرکتوں کے لئے ایسے هی مسلمان نما چهروں کو استعمال میں لائے۔

آپ نے کہا: تکفیری دهشت گردگروہوں کی کاروئیوں سے حقیقت میں ان کابنیادی مقصد دنیا والوں کی نظر میں اسلام کا چہرہ خراب کرنا تھا اور خطے میں ان کی کامیابی  بعض ضمیر فروش مسلمان علماء کی مدد اور شرکت سے ہوئی ہے۔

رادفر کہتے ہیں: علمائ اسلام نے ان تکفیری تحریکوں کے شروع ہونے سے لے کر اب تک ان کے واقعی چہرے کو پہچنوانے اور ان کے مکروه چهره سے نقاب هٹانےکی راہ میں کوئی قدم نہیں اٹھایا ۔اور یہی امر اسلامی ممالک کےبہت سے علاقوں پران کے قبضے کا سبب بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا: علماء کو چاہئے تھا کہ وہ لوگوں کو اس بارے میں آگاہ کرتے کہ دین اسلام، رحمت و مہربانی کا دین ہے، اسلام کسی بھی صورت میں بے گناہ بچوں کا خون بہانے یا شوہر دار عورتوں سے نکاح کی اجازت نہیں دیتا ۔

مغربی آذربائیجان ضلع کے سیاسی اور امنیتی امور میں نائب مشیر کہتے ہیں: ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا چاہئے کہ مختلف ممالک میں بہت سے اسلام مخالف، کام انجام پاتے ہیں۔

آپ نے کہا: مختلف ممالک میں تکفیری انتهاء پسند جماعت کے ذریعه انجام دئے گئے جرائم کے پیش نظر ہم مشاهده کر رهے ہیں کہ ان ممالک میں جیسے عراق، پاکستان، افغانستان اور شام ، اسی طرح بعض افریقی ممالک میں زندگی بسر کرنے والے افراد میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور داعش سے نقصان اٹھانے والے لوگ ان کے جرائم سے وحشت زدہ ہو گئے ہیں۔

رادفر کہتے ہیں: اس وقت ہم عراق اور شام میں مشاهده کر رهےہیں که وہاں کی افواج ،رضاکاروں کے ساتھ مل کر داعشی دهشت گردوں کا  مقابلہ کر رهے هیں اور یہ مقابلہ داعش کے کمزور ہونے کا سبب بن رہا ہے لیکن ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ داعش سے مقابله منظم طور پر هونا چاهئے کیونکہ موجودہ صورت حال سے داعش کو کسی بھی طرح سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

آپ نے مزید کہا: داعش جیسے دھشت گرد گروہوں کے خوفناک جرائم ، اسلام کے حقیقی دشمنوں کی حکمت عملی کا حصہ ہیں اور وہ لوگ ان دھشت گرد عناصر کے اپنے ملکوں کی طرف پلٹ کر آنے سے خوف زدہ ہیں، اس لئے ان کے لئے اسلامی ممالک میں ہی کہیں ایک نئی بستی بسانے کی کوشش میں ہیں۔

مغربی آذربائیجان کے سیاسی و امنیتی امور میں گورنر کے نائب مشیر نے داعش سے مقابلہ کے لئے تمام اسلامی ممالک کے اتحادکی ضرورت کی طرف تاکید کرتے ہوئے کہا: علمای اسلام کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں غور و فکر کریں اور اس تکفیری گروہ اور ان کے تفکرات و نظریات کے خاتمے کے لئے راہ حل تلاش کریں۔

انہوں نے دینای اسلام سے شدت پسند افکار کے خاتمہ کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا: شدت پسند افکار کا اسلامی دنیا سے خاتمہ ہونا چاہئے کیونکہ اسلامی ممالککی یہ نا گفتہ بہ حالت اسی سوچ اور نظریات کا نتیجہ ہے۔

رادفر کہتے ہیں: عوام الناس اور خاص طور پر جوانوں کو حقیقی اسلام کے چہرے سے متعارف کرانے کے لئے علمائے اسلام کا ایک آواز ہونا نہایت اہمیت رکھتا ہے کیونکه دشمن انٹر نیٹ کے ذریعہ جوانوں میں اپنا اثر و رسوخ جما رہا ہے۔

آپ کہتے ہیں: حال حاضر میں دنیائے اسلام کے تمام جوانوں کے سامنےایک ایسا اطلاعاتی مرکز هے  جس میں اسلام سے متعلق متضاد خبریں درج ہیں لہذا اس حالت میں علمائے اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات اور اس کے اغراض و مقاصد سے جوانوں کو آشنا کریں۔

مغربی آذربائیجان ضلع کے سیاسی اور امنیتی امور میں نائب مشیر جناب ڈاکٹررادفرکہتے ہیں: علمائے اسلام کو آگاہ ہونا چاہئے کہ اگر جوانوں کو اسلام کے بارے میں ان کے سوالوں کا صحیح  جواب نہیں ملے گا تو قطعا وہ تکفیری تفکرات کی طرف جذب ہوجائیں گے۔ لہذا لازم ہے کہ تمام علمائے اسلام ان تکفیریوں سے اظہار برائت کرکے اسے دنیا والوں کے سامنے شائع کریں۔

رادفر کہتے ہیں: دور حاضر میں اسلام سخت ترین مشکلات میں مبتلا ہے ، دشمنوں کی یہ کوشش ہے کہ وہ دین مبین اسلام کو بر عکس پیش کریں لہذا ضروری ہے کہ علمائے اسلام، اسلام کی امداد پر کمر بسته هوں۔

 

 

 امام جمعہ شہر نقدہ مولانا ابراہیم سرخابی

 شہر نقدہ کے امام جمعه مولوی ابراہیم سرخابی نے بھی تکفیری تنظیموں سے مقابلہ میں علمائے اسلام کی ذمہ داری کے موضوع پر تقریر کی۔ آپ نے ان گروہوں سے مقابلہ کی راہ کو قرآن کریم اور سنت نبوی (ص) میں منحصر جانا اور کہا کہ قرآن کریم نے واضح انداز میں فرمایا ہے کہ جو بھی شعائر اسلامی پر عمل کرتا ہے وہ مسلمان ہے اور کسی کو اس سے ٹکرانے کا حق نہیں ہے۔ اس کے بعد آپ نے تاریخ اسلام سےپیغمبر اکرم (ص) کے زمانے کی مثالیں بیان کی اور آنحضرت( صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی احادیث اور روایات سے یہودیوں اور غیر مسلموں کے ساتھ آپ کے سلوک کا ذکر کیا۔

نقدہ شہر کے امام جمعہ نے واضح کیا: تکفیری گروهوں کے اپنےمن گڑھت اصول ہیں جو آسانی سے دوسروں کو کافر کهه دیتے هیں، حالانکه یه کوئی آسان مسئلہ نہیں ہے۔  بهرحال آسانی سےکسی کو کافر قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ آپ نے مزید کها که اگر کوئی اسلام کا اظہار کررها هےتو اس کو کسی صورت میں کافر قرار نهیں دیا جاسکتا اس لئے اس کا اظهار اسلام، اس کو کافر قرار دینے کے لئے مانع بن جائے گا.

مولوی سرخابی بیان کرتے ہیں: ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان گروہوں سے مقابلہ میں عملی اقدامات انجام دیں اور بیانات صادر کرکے ان کے اقدامات کی مذمت کریں۔ آپ نے ایران کی امنیت کو ایران کے رہبر اور حکومت کی تدبیروں کا نیتجہ بتایا۔ اور دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دینے پر رہبر معظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا: کسی کو بھی یہ اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ وہ دوسروں کے مقدسات کی توہین کر یں، دوسروں کے جذبات بھڑکا کر نا امنی ایجاد کرنے کا سبب بنیں۔

آپ نے اسلامی جمهوریه ایران میں اس تکفیری خطرے کے روک تھام پر تاکید کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران جنگ و جدال کے طوفان اور ہمسایہ ممالک کے قتل و غارت کے درمیان ایک پر سکون جزیرہ کی طرح ہے اور یہ امنیت و اطمینان رہبر معظم کی بصیرت اور تدبیر کا مرہون منت ہے۔

آپ نے تاکید کی کہ سٹیلائٹ ٹی وی چینلزاسلام سے بیزار ہیں اور شیعہ و سنی ہونے کا جھوٹا دعوی کرتے ہیں۔ ان کا مقصد فقط ہمیں ایک دوسرے کا دشمن بنانا اور ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانا ہے تا کہ اس کے ذریعہ سے وہ اپنے مکروه اغراض و مقاصد پورا کر سکیں اور اسلامی ملک کو نا امن دکھا سکیں۔ آپ نے بیکاری کے مسئلہ کو جوانوں کے تکفیری گروہوں کی طرف جذب ہونے میں موثر بتایا اور حکومت سے اس مسئلہ کے حل کی گزارش کی۔

نقدہ شہر کے امام جمعہ نے بیان کیا: اہل سنت علماء کو بھی ملکی ٹیلی ویژن پر آنے کا موقع ملے تا کہ وہ اپنی تقریر کے ذریعہ عوام الناس کو آگاہ کر سکیں اور عوام میں اتحاد پر تاکید کر سکیں۔

اپنی تقریر کے اختتام پر آپ نے کہا کہ عالمی استکبار کا دل مسلمانوں کے لئے نہیں کڑھتا ورنہ اسلامی ممالک میں وہ اس قدر اسلحہ نہیں بانٹتے۔

 

 مغربی آذربائیجان میں دفتر نمایندہ ولی فقیہ میں امور اہل سنت کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین فعال آذر

 مغربی آذربائیجان میں دفتر نمایندہ ولی فقیہ میں امور اہل سنت کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین فعال آذر نے اپنی تقریر میں کہا: تکفیری تنظیموں نے دین اسلام میں تحریف کر دی ہے اور دشمنان اسلام،اسلام کو نقصان پہچانے کے لئے خشک مقدس اور بےوقوف دینداروں کا استعمال کر رہے ہیں۔

آپ نے مزید کہا: اس سلسلے میں ہمیں دین میں تحریف کی طرف متوجہ رہنا چاہئے اور جہالت کو دور کرنا چاہئے۔ آپ نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہم علماء کی ذمہ داری ہے کہ  ان سازشوں کے مقابلہ میں ڈٹ جائیں ورنہ دشمنان دین ہمیں ایک نمایشی کردار بنا ڈالیں گے اور پھر ہم بھی عیسائیوں کی طرح فقط ایک هی دن نماز جمعہ کے لئے جائیں گے اور بس ۔۔۔

حجۃ الاسلام والمسلمین فعال آذر نے جہاد نکاح کو تکفیری گروہوں کی طرف سے ہونے والے ایک بڑے انحراف کا حصہ بتایا اور تاکید کی کہ تکفیری عناصر دشمن کے آلہ کار ہیں اور ان کا مقصد اسلام کو نابود کرنا ہے۔

 

 امام جمعہ شہر سردشت مولوی ملا خدر رحیمی

مولوی ملا خدر رحیمی نے دشمن کے حیلوں میں سے ایک حیلہ آپسی اختلافات کو ہوا دینا بتایا کہ اس سلسلے میں دشمن اس طرح کے افراد سے استفادہ کرکے پوری دنیا میں اسلام ہراسی پھیلانے کی کوشش میں ہے۔ ان اختلافات کا نتیجه مسلمانوں کے گھروں کو اجاڑنا اور ان کی پہچان کو ختم کرنا هے۔ تکفیری جماعت،  اسلام کی حقیقی دشمن ہے جو سعودی عرب، قطر اور متحدہ عربی امارات کے پیسے سے وجود میں آئی ہے۔

سردشت کے امام جمعہ نے کہا: ایران مقاومت کا مرکز ہے اور دشمن یہ چاہتا ہے کہ بیداری اسلامی کا خاتمہ ہو جائے۔ اس درمیان مغربی دنیا مذہب سازی کے ذریعہ اسلام کو نابود کرنا چاہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں تکفیر کے تیر کا نشانہ اسرائیل کی طرف نہیں ہے ، یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل کےساتھ تعلقات سازگار هوجائیں ، بهرحال ہمیں استکبار کے دھوکہ اور فریب میں نہیں آنا چاہئے اور ہمیں اس امنیت کی قدر کرنی چاہئے۔

آپ نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ قرآن کریم ، سنت نبوی اور رہبر معظم انقلاب کی تدبیر کے سایہ میں ان شاء اللہ ہم کامیاب ہوں گے اور اتحاد کا نعرہ بلند کریں گے ، ہمیں چاہئے کہ ہم اس حقیقت کو دوسروں کے لئے بھد روشن کریں ، تکفیر سے بیزاری کا اظہار کریں اور ان اہداف تک رسائی کی راہ میں اپنے اندر اتحاد ایجاد کریں۔

 

 امام جمعہ بوکان مولوی خلیفہ زادہ

 امام جمعہ بوکان مولوی خلیفہ زادہ نے اپنی تقریر میں کہا: ہمارے سامنے دو چیلینج ہیں ایک داخلی چیلینج ہے اور دوسرا خارجی۔

آپ نے کہا: داخلی چیلینج یہ ہے کہ ہم سب دیکھ رہے ہیں، محسوس کر رہے ہیں کہ ہمارے درمیان اتحاد نہیں ہے ، ہم نے مذہب کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اپنی اپنی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔

مولوی خلیفہ زادہ نے کہا: اگر کسی معاشرہ میں دین و مذہب کی ضرورت نہیں ہوتی تو کیوں ہمیشہ ہر عصر اور زمانہ میں ایک دین موجود رہا ہے اور اسی سلسلہ کی آخری کڑی دین مبین اسلام ہے۔

بوکان کے امام جمعہ نے عالمی استکبار کو خارجی چیلینج سے تعبیر کیا اور کہا: عالمی استکبار مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ایجاد کرنے کی کوشش میں ہیں۔

آپ نے مزید کہا: تکفیری تنظیمیں کفار کی طرف سے فریب کا شکار ہیں جنهیں استکبار نے مادی ، جسمانی ، شہوانی اور هر طرح کا لالچ دے کر انہیں اپنے بھائیوں کا دشمن بنا دیا ہے۔

مولوی خیلفہ زادہ نے اپنی تقریر کے آخر میں کہا: ہم اپنے دلوں کو محض امریکہ مردہ باد و اسرائیل مردہ باد کے نعروں سے گرم نہ کریں کیونکہ یہ چیزیں حباب کی مانند ہیں اور اس سورج مکھی کی طرح ہیں جو روزانہ اپنا رخ دوسری طرف بدل لیتی ہے۔

 

 ارومیہ شہر میں اہل سنت کے امام جمعہ مولوی عبد القادر بیضاوی

ارومیہ شہر میں اہل سنت کے امام جمعہ مولوی عبد القادر بیضاوی نے آخری مقرر کے طور پر اپنی تقریر میں کہا: دین کو سیاست سے جدا کرنا ایسا خطرہ ہے جو اسلامی ممالک کے سر پر منڈلا رہا ہے۔

آپ نے اوائل انقلاب کے نعرہ استقلال، آزادی، جمہوری اسلامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: انقلاب اسلامی کی ابتداء میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور ہم آھنگی اپنے شباب پر پہچ چکی تھی، ہمیں اسے محفوظ رکھنا چاهئے۔

مولوی عبد القادر بیضاوی نے کہا: استقلال، آزادی، جمہوری اسلامی کے نعرہ کے ساتھ  ہم نے جس راہ کا انتخاب کیا تھا ہمیں اس پر بلند اور مضبوط  قدم  اٹھانا چاہئے۔

مولوی بیضاوی نے مزید کہا: دنیا کے حالات کو دیکھتے هوئے جهاں تمام ممالک ایک دوسرے کی جان کے درپے ہیں، پھر همارے اسلامی ملک ایران  میں امن و امان قائم هے حالانکه یهاں بھی اقلیتیں اور مختلف اقوام رهتی هیں لیکن سرزمین ایران پر پرسکون زندگی بسر کررهی هیں۔

 

آخر میں اس کانفرنس کے اختتامیہ بیان کو پڑھ کر سنایا گیا۔  جسے ذٰیل میں قارئین محترم کے لئے پیش کیا جا رہا ہے:

اختتامہ بیان

ولا تقولوا لمن القی الیکم السلام لست مومنا تبتغون عرض الحیاۃ الدنیا۔

موجودہ حالات میں عالم اسلام اپنے تلخ ترین دور سے گزر رہا ہے ، تکفیری اور شدت پسند گروہ تفرقہ ڈالنے والی باتوں، فتاوی اور اعمال کے ذریعه مسلمانوں کے درمیان قتل و غارت گری، شدت پسندی، اور مذهبی جنگ کا باعث بن رهے هیں اور مسلمانوں کے ذہنوں کو عالم اسلام کے اصلی مسائل سے منحرف اور دشمن عناصر کو تقویت پہچا رہے ہیں ۔

ایسے حالات میں علمائے اسلام کے لئے لازم ہے کہ ان گروہوں کی مخالفت  اورمذمت کے ساتھ ساتھ حقیقی اسلام کا تعارف کراکے اپنی تاریخی ذمہ داری کو پورا کریں۔

اسلام رحمت و مہربانی کا دین ہے ، قتل و شدت پسندی سے مبرا ہے۔ مسلمانوں کے لئے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) آئیڈیل اور اسوہ ہیں جنہیں "انک لعلی خلق عظیم "کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ لہذا تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ دیگر ادیان و مذاہب کے ساتھ پر امن سماجی زندگی کی مثال پیش کریں اور ہر طرح کی  شدت پسندی اور ایسے اعمال سے پرہیز کریں جو دیگر ادیان و مذاہب کی پیروی کرنے والوں کے ساتھ  پر امن زندگی کی راہ میں رکاوٹ هو۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عملی سیرت و قطعی سنت کی بنیاد پر جو بھی شہادتین کو اپنی زبان پر جاری کرتا ہے وہ مسلمان ہے اور اس کا خون، مال، ناموس اور عزت محترم ہے اور اس سلسلہ میں کیا جانے والا اجتہاد، نص صریح کے مقابلہ میں کیا جانے والا شخصی اور ذاتی استنباط شمار کیا جائے گا۔

علمائے اسلام  کے اجماع  کے مطابق، کفر اس وقت متحقق ہوتا ہے جب ضروریات دین کا واضح طور پر انکار کیا جائے ، جبکہ عالم اسلام میں موجود اختلافی موضوعات میں سے کوئی بھی موضوع ضروریات دین میں شامل نہیں ہے اور اسی بنیاد پر کسی بھی فرد یا گروہ کو یہ حق نہیں پہچتا ہے کہ وہ بے بنیاد بہانہ کی وجہ سے کسی پر حملہ کرے۔

ہم علمای دین مختلف ممالک میں تکفیری تنظیموں کے جرائم و سفاکیت اور بعض لوگوں کے سیٹیلائٹ چینلز کے ذریعہ تفرقہ ڈالنے والے اقدامات کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ تمام اسلامی مسالک و مذاہب کے علماء سےتقاضا کرتے ہیں کہ کسی سیاسی اور مذہبی مصلحت کا لحاظ کئے بغیراپنے مسلک کےشدت پسند لوگوں سے برائت کا اعلان کریں اور کتبی طور پر اپنے فتاوای اور بیانات صادر کرکے مسلمانوں کو مذہبی جنگ سے بچائیں۔

چونکہ دشمنان اسلام ان انتهاء پسند گروہوں  کو اپنے استکباری اغراض و مقاصد حاصل کرنےاور عالم اسلام کے ذخائر پر قبضه کرنے کے لئے ا ستعمال کر تے هیںاسی طرح " اسلام ہراسی" کے پروجیکٹ کے ذریعه دنیا بھر میں اسلام کے بڑھنے اور پھیلنے میں رکاوٹ ڈال رهے ہیں۔ اس کانفرنس میں حاضر علماء واضح انداز میں اعلان کرتے ہیں کہ وہ تمام شدت پسند تکفیری گروہوں کے مخالف ہیں اور ان گروہوں کا اسلام اور مسلمین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس کانفرنس میں حاضر ہم تمام علماء خطے کے تمام سیاست دانوں سے مطالبه کرتے ہیں کہ ایسے کاموں سے جو شدت پسندی اور تکفیر کے بڑھنے اور مذہبی جنگ کا سبب هوں ، ان سے پرہیز کریں اور اس علاقے کے تمام اختلافی مسائل کے لئے مذاکرات بهترین راہ حل اور صلح بہترین عاقبت ہے جیسا کہ قرآن مجید کی نص ہے کہ الصلح خیر۔ اسلامی حکومت کی کامیابی کا راز، دنیا بھر میں ایک  دوسرے کے ساتھ  تعاون و ہم فکری کے ساتھ اتحاد، اسلامی تمدن و ثقافت کی تجدید اور اسلامی حیات بخش  اصلی تهذیب کی نشر و اشاعت میں پوشیدہ ہے۔

اس راہ میں ہمیں اپنی تمام تر توانائی اور قدرت کو کلمۃ اللہ کے اعتلاء اور ایک جدید ثقافت کے ایجاد میں استعمال کرنا چاہئے اور ہر اس بات یا عمل سے پرہیز کرنا چاہئے جو ہمیں اس اصلی ہدف و مقصد سے دور کر سکتی ہو ۔

امید کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سیرت طیبہ، تمام مسلمانوں کے لئےآئیڈیل ، نمونه عمل اور ساری دنیا کے علماء اور دانشوروں کی ہمت و حوصلہ کا سبب بنے۔

والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

 

 

                                                                                                                                                                                                                                                                             

نظریه ارسال