تکفیری فکر کی بیخ کنی کے لیے علمی، منطقی اور ہمہ گیر تحریک چلانے کی ضرورت
تاریخ انتشار : 8/16/2016
دوباره دیکهنا : 302

رہبر انقلاب سے علمائے اسلام کی ملاقات

تکفیری فکر کی بیخ کنی کے لیے علمی، منطقی اور ہمہ گیر تحریک چلانے کی ضرورت

 

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ امریکہ اور یورپی سامراجی ملکوں کو ایٹمی مسئلے میں ایران کو گھٹنے ٹیکنے پرمجبور کرنے میں ناکامی ہوئي ہے اور ان کی کوششیں بے نتیجہ رہی ہیں۔

 

 اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج علمائے اسلام کی نظر میں انتہا پسند تکفیری عناصر کے خطروں کے زیر عنوان عالمی کانفرنس کے شرکاء سے خطاب میں ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکہ اور یورپ کے سامراجی ممالک سرجوڑ کر بیٹھے تھے اور انہوں نے یہ کوشش کی تھی کہ ایران کو گھٹنے ٹیکنے پرمجبور کرسکیں لیکن انہیں کامیابی نہیں ہوئي اور نہ ہوگي۔

 

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ حالیہ برسوں میں سامراج نے اسلامی دنیا کے خلاف تکفیری گروہوں کو زندہ کیا ہے۔

 

آپ نے فرمایا کہ خبیث تکفیری گروہ صیہونی حکومت سمیت سامراجی حکومتوں کے اھداف کی راہ میں کام کررہے ہیں جو فلسطین اور مسجد الاقصی کے بنیادی مسئلے کو اذہان سے محو کرنے سے عبارت ہے۔

 

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ آج کے حالات میں علماء اسلام کی اہم ترین ذمہ داری ہے کہ وہ تکفیری فکر کی بیخ کنی کے لئے ایک علمی، منطقی اور ہمہ گیر تحریک شروع کریں، تکفیری فکر کو زندہ کرنے میں ملوث سامراج کے کردار کے بارے میں عوام کو آگہی فراہم کریں ۔

 

رہبرانقلاب اسلامی فرمایا کہ امریکہ اورعلاقے میں اس کے اتحادیوں  کا یہ ھدف ہے کہ وہ تکفیری گروہوں کے سہارے اسلامی بیداری کو منحرف کردے،  اسلامی ملکوں کی نہایت اہم بنیادی تنصیبات کو تباہ کردے اور اسلام کا چہرہ بگاڑ کر پیش کرے۔

 

آپ نے فرمایا کہ تکفیری گروہوں نے مزاحمت کے محاذ کو فلسطین سے عراق و شام کی سڑکوں میں منتقل کردیا ہے۔

 

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکہ کے ٹرانسپورٹ طیاروں نے عراق میں تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے لئے بارہا ہتھیاروں کی کھیپیں گرائي ہیں اور امریکہ نے دکھاوے کے لئے داعش کے خلاف اتحاد تشکیل دیا ہے اور یہ ایک سفیدجھوٹ ہے کیونکہ اس اتحاد کا بنیادی ھدف مسلمانوں کے درمیان جنگ اور خونریزی پھیلانا ہے لیکن یہ لوگ اپنے اھداف کو نہیں پہنچیں گے۔

 

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فلسطین کو صیہونی قراردینے کے صیہونی پارلیمنٹ کے حالیہ فیصلے کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ اسرائيل قدس اور مسجد الاقصی پر قبضہ کرنے نیز فلسطینیوں کو زیادہ سے زیادہ کمزور بنانے کے درپئے ہے۔

 

آپ نے فرمایا کہ تمام اسلامی قوموں اور علماء اسلام کو اپنی اپنی حکومتوں سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ مسئلہ فلسطین کی حمایت کریں اور اس پر توجہ رکھیں۔

 

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ملت ایران فلسطین کے عوام کی حمایت جاری رکھے گی اور اسلامی جمہوریہ ایران جس طرح سے لبنان میں شیعہ حزب اللہ کی مدد کر رہا ہے اسی طرح حماس اور تحریک جہاد اسلامی اور فلسطین میں اھل سنت کے دیگر گروہوں کی بھی مدد کرتا ہے۔

 

آپ نے غزہ میں فلسطینیوں کی تقویت کو فلسطینیوں کےحق میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مدد کا ایک نمونہ قراردیا اور فرمایا کہ غرب اردن کو بھی مسلح کرکے دفاع کے لئے آمادہ کرنا ہوگا اور یہ کام یقینا انجام پائے گا ۔

نظریه ارسال