کیتھولک دنیا کے رہبر پادری فرانسیس کے نام معظم لہ کا خط
تاریخ انتشار : 8/22/2016

معظم لہ کے دفتر کی طرف سے نشر ہوا :

کیتھولک دنیا کے رہبر پادری فرانسیس کے نام معظم لہ کا خط

اصولی طور پر اسلام، دنیا کے تمام صلح طلب لوگوں کے ساتھ محبت، رحمت ا ور صلح و صفائی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی بنیاد پر استوار ہے اور تشدد و قتل و غارت کی مذمت کرتا ہے ۔ اسلامی علماء دنیا کے ہر گوشہ میں تشدد کو قرآن مجید کے احکام کے برخلاف شمار کرتے ہیں ، چاہے یہ تشدد اسلامی ممالک میں ہو ، یا یوروپ اور امریکہ میں ہو، سب کی مذمت کرتے ہیں ۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عالی جناب پادری فرانسس ۔

کیتھولک دنیا کے رہبر

سلام و دورود کے ساتھ

جناب عالی نے پولینڈ کے سفر پر اپنے ایک انٹرویو  میں اسلام بلکہ تمام الہی ادیان کی طرف تشدد اور قتل و غارت کی نسبت کو جھوٹا اور غلط قرار دیا ہے ، ہم اس بات سے بہت خوشحال ہیں ۔

جناب عالی نے دین اسلام کے متعلق اپنا جو منطقی موقف اپنایا ہے اور اسلام کو داعش جیسے تکفیری گروہوں کے انسانیت کے خلاف انجام دینے والوں کاموں سے پاک و پاکیزہ اور مبرا قرار دیا ہے، اس کے لئے آپ لائق تحسین ہیں ۔

یقینا تشدد و بربریت کے خلاف دینی رہبروں کی طرف سے قوی اور واضح موقف کو بیان کرنا بہت ضروری ہے، خصوصا ایسے حالات میں جہاں دین کے نام پر تشدد اور بربریت کو انجام دیا جارہا ہو ۔

میں خود اپنی جانب سے فرانس کے ایک چرچ میں تکفیری عناصر کے جنون آمیز دہشت گردی کے واقعہ اور اس پادری کے وحشیانہ قتل کی مذمت کرتا ہوں اور جیسا کہ میں نے اپنے گزشتہ خط میں جناب عالی کو لکھا تھا، دوبارہ صریح طور پر اعلان کرتا ہوں: دنیا کے تمام علمائے اسلام اور اکثر مسلمانوں کی نظر میں تکفیری تمام گروہ، دین اسلام سے خارج ہیں اور آج یہ لوگ انسانیت کی جان کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں، ہم کئی سال سے اس خطرہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں ۔

اصولی طور پر اسلام، دنیا کے تمام صلح طلب لوگوں کے ساتھ محبت، رحمت ا ور صلح و صفائی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی بنیاد پر استوار ہے اور تشدد و قتل و غارت کی مذمت کرتا ہے ۔ اسلامی علماء دنیا کے ہر گوشہ میں تشدد کو قرآن مجید کے احکام کے برخلاف شمار کرتے ہیں، چاہے یہ تشدد اسلامی ممالک میں ہو، یا یوروپ اور امریکہ میں ہو، سب کی مذمت کرتے ہیں ۔

ہم نے گزشتہ دو سال میں شہر مقدس قم میں دو مرتبہ تکفیری تحریکوں کے انحراف اور ان سے لاحق خطرات کے بارے میں عالمی کانفرنس منعقد کی تھی اور اس کانفرنس میں ٨٠ ممالک کے بزرگ علماء کو دعوت دی تھی، ان تمام علماء نے متفق ہو کر ہر طرح کے تشدد، ظلم و بربریت اور انسانوں کے قتل کو غلط قرار دیا اور اسلامی احکام کے منافی قرار دیا اور اس جاہل، بے رحم اور خونریز اقلیت کو متنبہ کیا کہ ان کا راستہ جہنم کا راستہ ہے!

یقینا اگر بعض حکومتیں اپنے مادی فائدوں کی وجہ سے تکفیری اور دہشت گرد گروہوں کی مدد نہ کرتے تو اب تک یہ گروہ نیست و نابود ہو چکے ہوتے ۔

جیسا کہ آپ نے خود تصریح کی ہے کہ تشدد اور ظلم و بربریت کا تعلق ادیان و مذاہب سے نہیں ہے بلکہ بعض استکباری طاقتوں کی ناجائز ثروت اور مادی منافع کی وجہ سے ہے ۔ اور اب بحمدللہ دنیا کی عمومی فکریں کسی حد تک بیدار ہوگئی ہیں اور امید کی جاسکتی ہے کہ اس طرح کے کام اس دنیا سے ختم ہو جائیں گے ۔

اختتام پر میں خداوندعالم سے جناب عالی کی توفیقات میں اضافہ کی دعا کرتا ہوں تاکہ اپنی اپنی رسالت یعنی دنیا میں صلح و معنویت اور بھائی چارگی پیدا کرنے میں کامیاب و کامران ہوں ۔

قم ۔ دینی مرجع

ناصر مکارم شیرازی

نظریه ارسال