سعودی حکمراں اسلامی مقدسات کے ساتھ سیاسی کھلواڑ کر رہے ہیں/ سعودی عرب حج کے مینجمنٹ اور حرمین شریفین کا انتظام چلانے کی اہلیت نہیں رکھتا ۔
تاریخ انتشار : 9/8/2016

معظم لہ نے فقہ کے درس خارج کی ابتداء میں فرمایا :

سعودی حکمراں اسلامی مقدسات کے ساتھ سیاسی کھلواڑ کر رہے ہیں/ سعودی عرب حج کے مینجمنٹ اور حرمین شریفین کا انتظام چلانے کی اہلیت نہیں رکھتا ۔

 

منطق قرآن کی رو سے حج کا مینجمنٹ تمام مسلمانوں کا حق ہے چاہے وہ وہاں پر زندگی بسر کر رہے ہوں اور چاہے وہ مسلمان جو دوسرے ملکوں سے وہاں پر پہنچتے ہیں ۔

 

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے شہر قم کی مسجد اعظم میں اپنے فقہ کے درس خارج کے دوران داخلی صلاحیتوں پر تکیہ کرنے کی تاکید کی اور فرمایا: جو قومیں غیروں پر تکیہ کرتی ہیں وہ ہمیشہ ذلیل ہوتی ہیں اور پستی کی طرف چلی جاتی ہیں ۔ انہوں نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ مسلمانوں کو ہمیشہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہئے ، وضاحت فرمائی : اگر ایک حکومت اور قوم اپنے پیروں پر کھڑی ہوجائے تو وہ ہمیشہ سرافراز اور عزیز ہوتی ہے ، لیکن اگر دوسروں کی محتاج ہو تو ان کی کوئی عزت نہیں کرتا ۔

معظم لہ نے مزید فرمایا : قوموں اور ملتوں کے درمیان تبادلے موجود ہیں جو متقابل کے فائدوں کی بنیاد پر ہیں دوسروں کے وسائل اور ذرائع پر تجاوز کرنے کے لئے نہیں ہے ۔

 

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے اخلاقی نکات بیان کئے ۔ قرآن کریم ا ور دینی تعلیمات پر عمل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا : اس وقت اخلاقی مسائل خطرہ میں ہیں ، فاسد و مفسد میڈیا اور سائبر اسپیس گرداب کی طرح جوانوں کو آلودہ کررہا ہے ، ایسے حالات میں ہمیں خود بھی محفوظ رہنے کی ضرورت ہے اور دوسروں کو بھی ان حالات سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے حوزہ علمیہ کے اساتید کو اخلاقی نکات بیان کرنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا : دروس میں اخلاقی نکات بیان کرنا حوزہ علمیہ کی ایک عمومی سنت میں تبدیل ہوجانا چاہئے ، اساتید کرام کو اس مسئلہ کی طرف توجہ کرنا چاہئے اور ہفتہ میں ایک دن اخلاقی نکات سے مخصوص کرنا چاہئے ۔

 

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اپنے فقہ کے درس خارج میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ اس سال ایران کے مسلمان ، سعودی عرب کی وعدہ خلافی کی وجہ سے حج کرنے کیلئے نہیں گئے ، فرمایا : میں نے متعدد بار کہا ہے اور تاکید کی ہے کہ حرمین شریفین کا انتظام سعودی عرب کے اوپر نہیں ہونا چاہئے ۔

انہوں نے اس بات کے دلائل پیش کرتے ہوئے فرمایا : پہلی دلیل یہ ہے کہ حرمین شریفین تمام مسلمانوں سے متعلق ہے اور علمائے اسلام اجماع کریں اور ایسے گروہ کومعین کریں جو مسائل حج سے واقف ہوں اور وہ گروہ حج و عمرہ اور حرمین شریفین کے انتظامات کو اچھی طرح انجام دیں ۔

معظم لہ نے قرآن کریم کی ایک آیت کی یاد دہانی کراتے ہوئے فرمایا : بیت اللہ میں سب مساوی ہیں ،یہ قرآن کریم کی صریح اور واضح آیت ہے ، منطق قرآن کی رو سے حج کا مینجمنٹ تمام مسلمانوں کا حق ہے چاہے وہ وہاں پر زندگی بسر کررہے ہوں اور چاہے وہ مسلمان جو دوسرے ملکوں سے وہاں پر پہنچتے ہیں۔

انہوں نے حرمین شریفین کے انتظام میں سعودی حکمراں کی دوسری کمزوری مکہ میں واقع ہونے والے خونین اور غم ا نگیز حوادث بیان کئے اور فرمایا : تجربہ سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ سعودی عرب میں اکیلا حرمین شریفین اور مراسم حج کا انتظام کرنے پر قادر نہیں ہے ۔ سال گزشتہ منی میں خونین اور مرگبار حوادث سب کو یاد ہیں ، مسجد الحرام اور منی میں اس قدر و کشت و کشتار کیوں ہوتا ہے ۔

معظم لہ نے فرمایا : اربعین کے مظاہروں میں جس میں کئی گنا جمعیت ہوتی ہے ، صحیح انتظام کی وجہ سے الحمدللہ کوئی واقعہ پیش نہیں اتا ، لیکن حج کی رسومات میں جمعیت کی تعداد بہت کم ہوتی ہے لیکن دردناک اور خونین حوادث بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔

 

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے مزید فرمایا : البتہ سعودی عرب کی بے تدبیری فقط سال گزشتہ میں منحصر نہیں ہے بلکہ متعدد بار تلخ واقعات پیش آچکے ہیں ، ہم تاکید کرتے ہوئے کہ سعودی عرب کا انتظام کسی بھی دلیل کی بناء پر صحیح نہیں ہے ۔

انہوں نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا : یہ مسئلہ مسلم کمیونٹیز میں پیش ہونا چاہئے کہ حج اور حرمین شریفین کا انتظام تمام اسلامی معاشرہ کے ہاتھوں میں ہونا چاہئے تاکہ ایسے پیش آنے والے حادثات کا سد باب ہوسکے ۔

 

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے سعودی حکمرانوں کی سیاست پر شدید انتقاد کرتے ہوئے فرمایا : اس سال سیاسی مسئلہ کے علاوہ کوئی اور چیز ایرانیوں کے حج کے لئے رکاوٹ نہیں بنی ،سعودی عرب کو عراق، یمن اور شام میں شکست کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ چاہتے ہیں کہ اس کا انتقام حج میں لے لیں، وہ ایسے شرائط رکھتے ہیں جو ہماری لئے قابل قبول نہیں ہیں ۔

انہوں نے سعودی حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : کیا حرمین شریفین، کعبہ، مکہ اور مدینہ تمہاری ذاتی ملکیت ہے جو تم اس طرح پیش آتے ہو ؟ یہ مقامات مقدسہ تمام مسلمانوں سے متعلق ہیں ۔

 

معظم لہ نے حرمین شریفین کے انتظام سے متعلق مطالعات انجام پانے کی خبر دیتے ہوئے فرمایا : اس سلسلہ میں کچھ مطالعات انجام دئیے گئے ہیں اور ایک بنیادی قانون تیار ہو رہا ہے جس کو علمائے اسلام کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ بہت جلد ان سب پریشانیوں کا سد باب ہوسکے ۔

انہوں نے آخر میں دنیائے اسلام کو پریشانیوں سے نجات ملنے کی دعاء کی اور فرمایا : میں خداوند منان سے دعا کرتا ہوں کہ جو لوگ اسلامی مقدسات سے سیاسی کھلواڑ کررہے ہیں ان کو جلد از جلد نیست و نابود کردے ۔

نظریه ارسال